دہلی کیپٹلز اور کرکٹ آسٹریلیا کے درمیان لفظی جنگ: مچل اسٹارک کی عدم دستیابی پر تنازعہ
مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ اور دہلی کی فتح
دہلی میں اتوار، 17 مئی کو کھیلے گئے ایک سنسنی خیز مقابلے میں مچل اسٹارک دہلی کیپٹلز اور راجستھان رائلز کے درمیان بنیادی فرق ثابت ہوئے۔ اس ہائی اسکورنگ میچ میں، جہاں دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر تقریباً 400 رنز بنائے، تجربہ کار آسٹریلوی فاسٹ بولر نے صرف 40 رنز دے کر چار اہم وکٹیں حاصل کیں۔ اسٹارک کی اس شاندار کارکردگی کی بدولت راجستھان رائلز، جو ایک وقت میں 14 اوورز میں 161-2 پر مضبوط پوزیشن میں تھی، مقررہ اوورز کے اختتام تک 193-8 تک محدود رہ گئی۔
اننگز کے آخری لمحات میں چار وکٹوں کے اس اسپیل نے دہلی کیپٹلز کو ایک اہم جیت دلائی اور اسٹارک کو ‘پلیئر آف دی میچ’ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ تاہم، اس کامیابی کے باوجود پس منظر میں ایک تنازعہ جنم لے رہا ہے۔ 36 سالہ اسٹارک اپنی طویل مدتی انجری کی وجہ سے آئی پی ایل 2026 کے سیزن کے پہلے ہاف میں شرکت نہیں کر سکے تھے، جس پر اب دہلی کیپٹلز کی انتظامیہ نے سخت ردعمل دیا ہے۔
ہیمنگ بدانی کا کرکٹ آسٹریلیا پر براہ راست حملہ
دہلی کیپٹلز کے ہیڈ کوچ ہیمنگ بدانی نے اسٹارک کی ابتدائی عدم دستیابی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کرکٹ آسٹریلیا (CA) کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ بدانی کا موقف ہے کہ آسٹریلوی بورڈ نے اسٹارک کی دستیابی پر غیر ضروری پابندیاں عائد کیں، جس سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ دہلی کیپٹلز [Source: AP] کی جانب سے جاری کردہ اشاروں اور بدانی کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرنچائز اور آسٹریلوی بورڈ کے درمیان تعلقات میں تلخی آ گئی ہے۔
جنوری میں آسٹریلیا میں 2025-26 کی ایشز سیریز اور بگ بیش لیگ (BBL) کھیلنے کے بعد، مچل اسٹارک نے آئی پی ایل 2026 کے وسط تک کسی بھی قسم کی مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ وہ 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے بھی باہر رہے تھے اور انجری کے خدشات کے باعث انہیں آئی پی ایل کے ابتدائی مرحلے میں کھیلنے سے روکا گیا تھا۔
مالی سرمایہ کاری اور فرنچائز کے خدشات
بدانی نے اس بات پر زور دیا کہ فرنچائز نے اسٹارک کی خدمات حاصل کرنے کے لیے خطیر رقم خرچ کی ہے، اس لیے ان کی مکمل دستیابی فرنچائز کا حق تھا۔ راجستھان رائلز کے خلاف جیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بدانی نے کہا، ‘مثالی طور پر، میں چاہوں گا کہ میرے تمام کھلاڑی پہلے دن سے میرے لیے دستیاب ہوں۔ مچل اسٹارک میری اسکواڈ کے سب سے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، ہم نے ان پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک میچ ونر ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘کچھ فیصلے ایسوسی ایشنز اور گورننگ باڈیز کی سطح پر ہوتے ہیں، جہاں ہم بے بس ہوتے ہیں۔ اگر کرکٹ آسٹریلیا کسی کھلاڑی کو ریلیز نہیں کرتا تو ایک کوچ یا فرنچائز اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔’ یہ بیان اس مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو آئی پی ایل فرنچائزز کو اکثر بین الاقوامی بورڈز کی پالیسیوں کی وجہ سے جھیلنی پڑتی ہے۔
مچل اسٹارک کی حالیہ فارم کا جائزہ
اگرچہ ہیمنگ بدانی کا خیال ہے کہ اسٹارک کی موجودگی شروع سے ہی ٹیم کی تقدیر بدل سکتی تھی، لیکن خود اسٹارک کی کارکردگی میں واپسی کے بعد سے کافی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 1 مئی کو راجستھان رائلز کے خلاف تین وکٹیں لے کر اپنے سیزن کا آغاز کرنے کے بعد، وہ چنئی سپر کنگز (CSK) اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے خلاف کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
پنجاب کنگز کے خلاف تو انہوں نے اپنے چار اوورز میں 57 رنز لٹائے، تاہم اتوار کو دوبارہ رائلز کے خلاف چار وکٹیں لے کر انہوں نے اپنی تال واپس پالی۔ اب تک پانچ اننگز میں اسٹارک نے 22 کی اوسط سے 9 وکٹیں حاصل کی ہیں، لیکن ان کا اکانومی ریٹ 10.42 رہا ہے، جو کہ ٹی 20 کرکٹ میں کافی مہنگا تصور کیا جاتا ہے۔
دہلی کیپٹلز کی پلے آف کی راہ میں حائل رکاوٹیں
راجستھان رائلز کے خلاف اس اہم جیت کے باوجود دہلی کیپٹلز پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں نمبر پر موجود ہے۔ 13 میچوں میں سے صرف 6 جیت اور 7 شکستوں کے ساتھ دہلی کے لیے اب 24 مئی کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف اپنا آخری میچ جیتنا لازمی ہے۔ صرف جیت ہی کافی نہیں ہوگی، بلکہ انہیں دوسری ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا تاکہ وہ پلے آف کی دوڑ میں شامل رہ سکیں۔ مچل اسٹارک کی تاخیر سے آمد اور ٹیم کی موجودہ پوزیشن نے دہلی کی انتظامیہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کاش ان کا اسٹار بولر سیزن کے آغاز سے ہی دستیاب ہوتا۔
