[CRK] ڈیاجیو کا آر سی بی (RCB) کی فروخت پر غور: اسٹریٹجک ریویو کا آغاز

[CRK]

ڈیاجیو کی جانب سے رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کی فروخت کے امکانات: ایک جامع جائزہ

کرکٹ کی دنیا اور خاص طور پر انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے مداحوں کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ عالمی سطح پر مشہور الکحلک بیوریجز کمپنی ڈیاجیو (Diageo)، جو کہ رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کی مالک ہے، نے فرنچائز میں اپنے حصص کی فروخت کی جانب پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ کمپنی نے باقاعدہ طور پر اس عمل کے لیے ایک ‘اسٹریٹجک ریویو’ (Strategic Review) کا آغاز کر دیا ہے۔

بدھ کے روز بھارت کے مارکیٹ ریگولیٹر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) کو جمع کرائی گئی ایک فائلنگ میں ڈیاجیو نے واضح کیا کہ وہ رائل چیلنجرز اسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ (RCSPL) کے ذریعے اپنی سرمایہ کاری کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ RCSPL وہ پیرنٹ کمپنی ہے جو آئی پی ایل (مردوں) اور ڈبلیو پی ایل (خواتین) دونوں ٹیموں کی مالک ہے۔

اسٹریٹجک ریویو کی تفصیلات اور ٹائم لائن

ڈیاجیو کی اس فائلنگ کے مطابق، اس جائزے کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ ریویو 31 مارچ 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، جو کہ بھارت کے مالی سال کا اختتام ہے۔ کمپنی کی ساخت کو سمجھنا ضروری ہے کہ RCSPL دراصل یونائیٹڈ اسپرٹس لمیٹڈ (USL) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے، اور USL خود ڈیاجیو کی ملکیت میں ہے۔

‘نان کور’ بزنس: فروخت کی بنیادی وجہ

اس فیصلے کے پیچھے کی منطق کو واضح کرتے ہوئے یونائیٹڈ اسپرٹس کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او، پروین سومیشور نے SEBI فائلنگ میں کہا:

“RCSPL بلا شبہ USL کے لیے ایک قیمتی اور اسٹریٹجک اثاثہ رہا ہے؛ تاہم، یہ ہمارے بنیادی الکحلک بیوریجز (alcobev) کے کاروبار کا حصہ نہیں ہے۔”

پروین سومیشور نے مزید کہا کہ یہ اقدام USL اور ڈیاجیو کی اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے انڈیا پورٹ فولیو کا جائزہ لیں تاکہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے طویل مدتی قدر (Value) کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ ساتھ ہی RCSPL کے بہترین مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

عالمی دباؤ اور بدلتا ہوا موقف

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیاجیو کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی اپنے بنیادی عالمی کاروبار میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی پر شدید دباؤ رہا ہے، جس کی وجہ سے اسے اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی تبدیل کرنی پڑ رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جون میں بھی ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ RCB فروخت کی جا رہی ہے، لیکن اس وقت کمپنی نے ان رپورٹس کی تردید کی تھی۔ USL کی کمپنی سیکریٹری مٹل سنگھوی نے ان خبروں کو “قیاس آرائیوں” پر مبنی قرار دیا تھا۔ تاہم، عالمی سطح پر کاروباری مشکلات اور معاشی دباؤ نے اب کمپنی کا موقف بدل دیا ہے، اور وہ اب حقیقت میں فروخت کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔

آر سی بی کی تاریخ اور مالکانہ حقوق کا سفر

رائل چیلنجرز بنگلور آئی پی ایل کی مقبول ترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے۔ 2008 میں جب ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا، تو RCB دوسری مہنگی ترین فرنچائز تھی۔ 2007 میں، اس وقت کے USL چیئرمین وجے ملیہ نے اس فرنچائز کو 111.6 ملین امریکی ڈالرز میں خریدا تھا۔ 2016 میں وجے ملیہ کے ڈائریکٹر کے عہدے سے دستبردار ہونے کے بعد، ڈیاجیو کمپنی کی واحد مالک بن گئی تھی۔

مستقبل کے سیزنز اور নিলাম پر اثرات

مداحوں اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس کاروباری فیصلے کا آنے والے آئی پی ایل (IPL) اور ڈبلیو پی ایل (WPL) سیزنز کی منصوبہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس میں کھلاڑیوں کی নিলাম (Auctions) بھی شامل ہے۔

  • WPL 2026: اس کا آغاز جنوری میں متوقع ہے۔
  • IPL 2026: RCB اس سیزن میں دفاعی چیمپئن (Defending Champions) کے طور پر میدان میں اترے گی، اور ٹورنامنٹ مارچ سے مئی تک جاری رہے گا۔

اگر کوئی نیا مالک سامنے آتا ہے، تو اسے آئی پی ایل انتظامیہ سے کلیئرنس حاصل کرنی ہوگی۔ یہ ایک پیچیدہ قانونی عمل ہے، جس کی وجہ سے ملکیت کی تبدیلی کا عمل 2026 کے آئی پی ایل سیزن کے بعد تک طول پکڑ سکتا ہے۔

نتیجہ

ڈیاجیو کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑی عالمی کمپنیاں اب اپنے غیر ضروری اثاثوں (Non-core assets) کو کم کر کے اپنے بنیادی کاروبار پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ اگرچہ RCB نے حال ہی میں اپنا پہلا آئی پی ایل ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کی ہے، لیکن کاروباری دنیا میں جذبات سے زیادہ مالیاتی استحکام کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی نئی کمپنی بنگلور کی اس مقبول ترین ٹیم کی باگ ڈور سنبھالتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *