انگلینڈ کرکٹ کا بڑا فیصلہ: آسٹریلوی سٹار مارکس نارتھ نئے نیشنل سلیکٹر مقرر
انگلینڈ کرکٹ میں ایک غیر متوقع تبدیلی
کرکٹ کی دنیا میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کی حریفانہ کشمکش 1900 کی دہائی سے چلی آ رہی ہے۔ ایشز سیریز کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان جو جذبات اور مقابلہ دیکھنے میں آتا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ایسے میں یہ تصور کرنا بھی محال تھا کہ ایک آسٹریلوی کھلاڑی انگلینڈ کی ٹیم کی بہتری کے لیے فیصلہ ساز عہدے پر فائز ہوگا۔ تاہم، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے جمعرات کو ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے پوری کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
مارکس نارتھ: ایک غیر ملکی ماہر پر اعتماد
اطلاعات کے مطابق، سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر اور ڈرہم کے ڈائریکٹر آف کرکٹ، مارکس نارتھ، انگلینڈ کے نئے نیشنل سلیکٹر بننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ لیوک رائٹ کی جگہ لیں گے، جنہوں نے ایشز سیریز میں انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، مارکس نارتھ نے اس دوڑ میں ڈیرن گاف اور سٹیون فن جیسے سابق انگلش کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مارکس نارتھ کا کردار لیوک رائٹ سے کہیں زیادہ وسیع اور بااختیار ہونے کی توقع ہے۔ انہیں ٹیم کے انتخاب میں مکمل آزادی حاصل ہوگی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ای سی بی اب انتظامی مہارتوں کو ترجیح دے رہا ہے۔
کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ بنا بنیاد
مارکس نارتھ کو یہ ذمہ داری دینے کی سب سے بڑی وجہ انگلش کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ان کا وسیع تجربہ ہے۔ ڈرہم کے ساتھ بطور ڈائریکٹر آف کرکٹ، انہوں نے ٹیم کو مالی بحرانوں سے نکال کر ایک مضبوط یونٹ میں تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ٹیم کو سنبھالا بلکہ ایمیلیو گے اور بین میک کینی جیسے ابھرتے ہوئے بلے بازوں کو بھی متعارف کرایا، جنہیں مستقبل کے انگلینڈ سکواڈ کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
نارتھ کا سفر صرف ڈرہم تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے ساؤتھ نارتھمبرلینڈ سی سی اور ‘دی ہنڈرڈ’ کی فرنچائز ناردرن سپر چارجرز (اب سن رائزرز لیڈز) کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ ان کا انتظامی پس منظر ہی انہیں اس عہدے کے لیے دیگر امیدواروں سے ممتاز کرتا ہے۔
مارکس نارتھ کا مختصر کرکٹ کیریئر
مارکس نارتھ کا اپنا بین الاقوامی کیریئر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ انہوں نے 2008-09 میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری بنا کر شاندار آغاز کیا تھا۔ بائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے اپنے 21 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل کیریئر میں 35 کی اوسط سے 1171 رنز بنائے۔ اگرچہ 2010 کے بعد وہ آسٹریلوی ٹیم سے باہر ہو گئے تھے، لیکن ان کی تکنیکی سمجھ بوجھ اور مشکل پچز پر کھیلنے کی صلاحیت ہمیشہ سے تسلیم شدہ رہی ہے۔
مستقبل کے چیلنجز
اگر اگلے ہفتے اس تقرری کا باضابطہ اعلان ہو جاتا ہے، تو 46 سالہ مارکس نارتھ کا پہلا بڑا امتحان 4 جون سے شروع ہونے والی نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب ہوگا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایک آسٹریلوی سلیکٹر انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی تشکیل میں کس طرح کی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ انگلینڈ کرکٹ کے مداح اب امید کر رہے ہیں کہ نارتھ کی انتظامی صلاحیتیں ٹیم کو دوبارہ بلندیوں پر لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اس تقرری نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ اب روایتی سوچ سے ہٹ کر پیشہ ورانہ مہارتوں اور جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے تیار ہے۔ کیا مارکس نارتھ انگلش کرکٹ کی تقدیر بدل سکیں گے؟ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔
