News

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا نیپال کا پہلا دورہ: ای سی بی غور و خوض میں مصروف

Riya Sen · · 1 min read

انگلینڈ کا نیپال کا پہلا دورہ: عالمی کرکٹ میں ایک نیا سنگ میل

نیپال میں کرکٹ کا جنون گزشتہ چند سالوں میں جس تیزی سے بڑھا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اب اطلاعات کے مطابق انگلینڈ کی مردوں کی کرکٹ ٹیم 2027-31 کے بین الاقوامی سائیکل کے دوران نیپال کا دورہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نیپالی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا لمحہ ہوگا، کیونکہ اب تک کسی بھی ٹیسٹ کھیلنے والے ملک نے نیپال کا مکمل دورہ نہیں کیا ہے۔

نیپالی کرکٹ کا عروج اور نئے امکانات

نیپالی کرکٹ ٹیم نے حال ہی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز جیسی بڑی ٹیم کو شکست دے کر نیپال نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بڑے مقابلوں کے لیے تیار ہے۔ کرکٹ آئرلینڈ نے بھی حال ہی میں کینیڈا کی کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ پانچ سالہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 2026-27 کے موسم سرما میں وائٹ بال دورے کا منصوبہ ہے۔

ای سی بی کی دلچسپی اور فیوچر ٹورز پروگرام

انگلینڈ اور نیپال کے درمیان حال ہی میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے مقابلے نے دونوں بورڈز کے درمیان رابطوں کی راہ ہموار کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نیپال کے سابق کپتان اور موجودہ سیکریٹری کین، پارس کھڑکا، نے ای سی بی کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) اپنے 2027-31 کے فیوچر ٹورز پروگرام (FTP) کو حتمی شکل دے رہا ہے، اور اس دوران نیپال میں دو یا تین میچوں کی ٹی 20 سیریز کو شیڈول میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

ای سی بی کے لیے یہ دورہ شیڈول کے لحاظ سے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ بھارت یا کسی اور قریبی ملک میں وائٹ بال سیریز کھیلنے جا رہے ہوں۔ ایک مختصر سیریز ان کے دورے کے دورانیے میں صرف چند دن کا اضافہ کرے گی، لیکن یہ نیپالی کرکٹ کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ثابت ہوگی۔

نیپال کا موقف اور عالمی کرکٹ میں اہمیت

نیپال کے موجودہ کپتان روہت پوڈیل کا ماننا ہے کہ آسٹریلیا یا انگلینڈ جیسی ٹیموں کا نیپال آنا کھیل کو عالمی سطح پر پھیلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ نیپال کرکٹ کھیلتا ہے اور اچھی کرکٹ کھیلتا ہے۔ پارس کھڑکا نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ نیپال کو اس وقت صرف ‘ایکسپوژر’ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، جب نیپالی کھلاڑی بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلیں گے، تب ہی وہ اپنے کھیل میں بہتری لا سکیں گے۔

خلاصہ اور مستقبل کے منصوبے

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی دستاویزی فلم ‘نیپال: کلائمبنگ کرکٹ ماؤنٹین’ نے نیپال میں کرکٹ کے لیے موجود جذبے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ کرکٹ وہاں محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک متحد کرنے والی طاقت بن چکا ہے۔

جہاں تک انگلینڈ کی بات ہے، وہ 2027 کے موسم گرما میں ایشیز سیریز کی میزبانی کرے گا، جبکہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف وائٹ بال سیریز بھی متوقع ہیں۔ ان مصروفیات کے باوجود، نیپال کا دورہ انگلینڈ کے لیے عالمی کرکٹ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

  • نیپال میں کرکٹ کی بڑھتی مقبولیت۔
  • ای سی بی اور کین کے درمیان ممکنہ بات چیت۔
  • عالمی کرکٹ میں نیپال کا مقام بنانے کے لیے اہم پیش رفت۔
  • 2027-31 کے شیڈول میں نیپال کی شمولیت کے امکانات۔

یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ای سی بی واقعی اپنے مصروف شیڈول میں سے وقت نکال کر نیپال کا رخ کرتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ نیپالی شائقین کرکٹ کے لیے کسی خواب کے سچ ہونے سے کم نہیں ہوگا۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.