[CRK] گیری کرسٹن کا سری لنکن کرکٹ کے لیے نیا روڈ میپ: ڈیٹا اور نظم و ضبط

[CRK]

سری لنکن کرکٹ کا نیا سفر: گیری کرسٹن کا وژن

جب گیری کرسٹن نے 2011 کے ورلڈ کپ فائنل میں بطور کوچ بھارت کو فاتح بنایا تھا، تو سری لنکا کے کروڑوں شائقین کے لیے وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اب، قسمت کا پہیہ گھوم چکا ہے اور گیری کرسٹن خود سری لنکن ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے: سری لنکن کرکٹ کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا۔

ٹیم آڈٹ: تبدیلی کی بنیاد

اپنی تقرری کے پہلے ہفتے میں ہی کرسٹن نے ‘ٹیم آڈٹ’ کا عمل شروع کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ سری لنکا کے پاس ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن اس ٹیلنٹ اور عالمی درجہ بندی کے درمیان ایک بڑا فرق موجود ہے۔ کرسٹن نے کہا، ‘صرف ٹیلنٹ پر انحصار کافی نہیں ہے۔ آپ کو ایک بہترین ورک ایتھک اور رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔’ وہ صرف موجودہ اسکواڈ تک محدود نہیں رہنا چاہتے، بلکہ ‘اے’ ٹیم پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اسکواڈ کی گہرائی (depth) کو بڑھایا جا سکے۔

ڈیٹا: جدید کرکٹ کا ہتھیار

کرسٹن کا ماننا ہے کہ جدید دور کا کھلاڑی ‘حکمی’ انداز کو پسند نہیں کرتا۔ اس لیے وہ ڈیٹا اور ٹھوس دلائل پر مبنی کوچنگ پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک مثال دی کہ سری لنکا نے 2020 کے بعد سے دنیا کی کسی بھی دوسری ٹیم سے زیادہ ون ڈے میچ کھیلے ہیں، لیکن سنچریوں کی تعداد دیگر بڑی ٹیموں کے مقابلے میں کم ہے۔ ان کا مقصد اس ڈیٹا کے ذریعے کھلاڑیوں کو ان کی کارکردگی میں بہتری لانے پر قائل کرنا ہے۔

ورک لوڈ اور فٹنس

عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگز کے دور میں، کرسٹن کا رویہ عملی ہے۔ وہ کھلاڑیوں کے لیے ٹریننگ کیمپوں کے بجائے میچ کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ مقابلہ ہی بہترین تیاری ہے۔ فٹنس کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پروٹوکولز صرف کھلاڑیوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہیں، نہ کہ ان پر سختی کرنے کے لیے۔ ‘فٹنس کا مقصد کھلاڑیوں کو لمبے عرصے تک میدان میں رکھنا ہے،’ انہوں نے مزید کہا۔

2027 ورلڈ کپ: طویل مدتی منصوبہ بندی

گیری کرسٹن کی نظریں 2027 کے ورلڈ کپ پر جمی ہوئی ہیں۔ وہ ٹیم کو جنوبی افریقہ کے مشکل کنڈیشنز کے مطابق تیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، ‘ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے پاس ایسے بولرز ہیں جو باؤنس اور رفتار سے گیند کر سکیں، اور کیا ہمارے پاس ایسے بیٹرز ہیں جو مختلف پچز پر ڈٹ کر کھیل سکیں۔’

نتیجہ خیز بات یہ ہے کہ کرسٹن سری لنکن کرکٹ میں ایک ایسی ثقافت لانا چاہتے ہیں جہاں ہر سیریز کے ساتھ ٹیم ‘ترقی اور بہتری’ کی جانب گامزن رہے۔ وہ جانتے ہیں کہ نتائج اہم ہیں، اور ورلڈ کپ تک کے سفر میں ہر میچ ان کی ٹیم کی تیاری کا امتحان ہوگا۔ سری لنکن شائقین کو اب ایک ایسے کوچ کی قیادت میں نئی امید ملی ہے جو ڈیٹا، نظم و ضبط اور سخت محنت پر یقین رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *