گوتھم گمبھیر کا جارحانہ انداز: سابق ساتھی کھلاڑی کی سنگین الزامات کی بوچھاڑ
گوتھم گمبھیر اور بھارتی ٹیم: تنازعات کا نیا محاذ
بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتھم گمبھیر ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، لیکن اس بار وجہ کرکٹ کی فتوحات نہیں بلکہ ان کا طرزِ عمل ہے۔ 2024 میں ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، گمبھیر کی قیادت میں ٹیم نے وائٹ بال کرکٹ میں تو کچھ بہتر کارکردگی دکھائی، تاہم ٹیسٹ فارمیٹ میں نتائج انتہائی مایوس کن رہے ہیں۔ بارڈر گواسکر ٹرافی اور ڈبلیو ٹی سی 2025 کے فائنل میں شکست کے بعد سے ہیڈ کوچ کے طور طریقوں پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
اتل وسن کی کڑی تنقید
حال ہی میں، سابق بھارتی کرکٹر اور گوتھم گمبھیر کے ساتھی کھلاڑی اتل وسن نے ایک یوٹیوب انٹرویو کے دوران گمبھیر کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ وسن کا کہنا ہے کہ گمبھیر کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے اور وہ ‘میری بات مانو یا ٹیم سے باہر ہو جاؤ’ کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔
گمبھیر کا ‘دھمکانے’ والا رویہ؟
اتل وسن نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی کرکٹ کے دنوں سے ہی گوتھم گمبھیر کا رویہ ایسا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘میں انہیں بچپن سے جانتا ہوں۔ ان کی انا بہت بڑی ہے۔ اگر آپ ان کے مطابق نہیں چلیں گے تو آپ ان کی ہٹ لسٹ پر ہوں گے۔ وہ آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔’ وسن کے مطابق، گمبھیر کا ماننا ہے کہ اگر وہ دن کو رات کہہ دیں تو کھلاڑیوں کو بھی اسے ماننا پڑے گا، جس سے ٹیم میں ایک خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
ٹیم میں عدم تحفظ کا احساس
اتل وسن کی سب سے اہم تشویش یہ ہے کہ کھلاڑی گوتھم گمبھیر کے سامنے کھل کر بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے اندر کئی کھلاڑی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ وہ کسی بھی وقت ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ وسن نے مزید کہا کہ جب تک ٹیم میچز جیتتی ہے، شاید یہ طریقہ کار چل جائے، لیکن شکست کی صورت میں کوچ کو تنقید کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔
روہت اور کوہلی کے ساتھ تعلقات
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گوتھم گمبھیر اور ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں، وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے درمیان کشیدہ تعلقات کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ مبینہ طور پر، گمبھیر 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ سے قبل ایک نوجوان ٹیم تشکیل دینا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ روہت اور کوہلی کو ٹیم سے باہر کرنے کے حق میں ہیں۔ تاہم، دونوں کھلاڑیوں کی شاندار فارم کے پیش نظر انہیں بغیر کسی معقول وجہ کے سائیڈ لائن کرنا کوچ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
مستقبل کے امکانات
بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا گوتھم گمبھیر کا یہ سخت مزاج انداز طویل مدت میں بھارتی ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ جیسے جیسے 2027 کے ورلڈ کپ کا وقت قریب آ رہا ہے، بھارتی ٹیم کے اندرونی معاملات اور کوچ کے فیصلوں پر شائقین اور ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی سی سی آئی اس صورتحال پر کوئی ردعمل دیتا ہے یا گوتھم گمبھیر اپنی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں۔
فی الحال، بھارتی کرکٹ ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں تجربہ اور جوش کے درمیان توازن برقرار رکھنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ گمبھیر کا یہ سخت امتحان آنے والے ٹورنامنٹس میں ہی ثابت کرے گا کہ آیا ان کا طریقہ کار ٹیم کو دوبارہ کامیابیوں کی بلندیوں پر لے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔
