گوتام گمبھیر کا افغانستان سیریز سے پہلے بڑا قدم: انڈیا کے ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کی کہانی
گوتام گمبھیر کی کوچنگ ٹیم نے افغانستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے پہلے ایک اہم اور حیران کن فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد انڈیا کی گھریلو کمزوری کو دور کرنا اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ( ڈبلیو ٹی سی) کے لیے امیدیں بحال کرنا ہے۔
نئی پچ، نیا شروعات؟
انڈیا کی ٹیسٹ ٹیم حالیہ عرصے میں گھریلو زمین پر شرمناک کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں وائٹ واش، بالخصوص اسپن دوستانہ پچوں پر متفقہ شکستیں، گمبھیر کی کوچنگ صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر چکی ہیں۔ اب، ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی کی ٹیکنیکل کمیٹی نے آنے والے گھریلو ٹیسٹ میچوں کے لیے سرخ مٹی کی بجائے سیاہ مٹی (بلیک سوئل) والی پچوں کی منظوری دے دی ہے۔
سرخ مٹی کا خاتمہ، سیاہ مٹی کا دور
سرخ مٹی والی پچیں ٹیسٹ میچ کے پہلے دن سے ہی جلدی پھٹ جاتی ہیں، جس سے اسپنرز کو بہت جلد فائدہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ سیریز میں، بیرونی اسپنرز جیسے مچل سانتنر اور سائمن ہارمر نے ایسی پچوں کا فائدہ اٹھا کر ہندوستان کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی۔
اب، ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ ایسی پچیں چاہتے ہیں جو پانچ دن تک قائم رہیں۔ سیاہ مٹی میں پانی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ زیادہ مستحکم ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ گریجیوئل وئیر اینڈ ٹئیر (gradual wear and tear) کا شکار ہوتی ہیں، نہ کہ فوراً دن کے آغاز میں ہی شکست کا شکار ہوں۔
میچ سائیٹس کا نیا انتخاب
انڈیا کے آنے والے چھ گھریلو ٹیسٹ میچوں کے مقامات – ملانپور، ناگپور، چنئی، گواہاٹی، رانچی، اور احمد آباد – کا خاص توجہ سے انتخاب کیا گیا ہے تاکہ وہ نئی پچ مینجمنٹ پالیسی کی حمایت کر سکیں۔
ایک بی سی سی آئی ذریعہ نے بتایا: “ان میں سے زیادہ تر مقامات سرخ، سیاہ یا مخلوط مٹی کے اختیارات فراہم کرتے ہیں، لیکن ہم نے وہ جگہیں منتخب کی ہیں جو 5 دن تک کھیل کو برقرار رکھ سکیں۔ ہمارے بلے باز دن اول سے ہی اسکور کرتے ہوئے پھسل رہے ہیں، اور نیز جلد ختم ہونے والے میچ ٹیلی ویژن نشریات کے لیے بھی مناسب نہیں ہوتے۔”
بین الاقوامی مقابلہ بگڑتا ہے
انڈیا کے لیے پریشان کن حقائق یہ ہیں کہ بنگلہ دیش، جسے عام طور پر کمزور ٹیم سمجھا جاتا ہے، نے گھر میں پاکستان کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش ٹیبل میں انڈیا کو پیچھے چھوڑ چکا ہے، جبکہ صرف نو میچ باقی ہیں۔
گھر پر فائدہ اٹھانے کی ضرورت
موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ چکر میں، انڈیا کو زیادہ تر فتوحات اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہی حاصل کرنی ہوں گی۔ وہ سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بیرونِ ملک سیریز کھیلیں گے، لیکن پانچ میچ کھیلیں گے تمام گھر پر، جن میں اگلے سال آسٹریلیا کے خلاف باؤنڈری-گیوسکر ٹرافی بھی شامل ہے۔
اگر انڈیا اب بھی اپنے گھریلو ماحول کا فائدہ نہ اٹھا سکا، تو 2025 کے فائنل کے لیے امیدیں تقریباً ختم ہو جائیں گی۔
نئی پالیسی کا مقصد کیا ہے؟
- ہندوستانی بلے بازوں کو زیادہ مستحکم شاٹس کھیلنے کا موقع فراہم کرنا۔
- بیرونی اسپنرز کے لیے پہلے دن سے ہی جادو کرنا مشکل بنانا۔
- میچوں کو پانچ دن تک جاری رکھنا تاکہ نشریاتی اور تجارتی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
- ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنا اور گھریلو ٹیسٹ میچوں میں جیت کے سلسلے کو دوبارہ شروع کرنا۔
گوتام گمبھیر کی یہ پالیسی الٹی گنتی میں ایک اہم تدبیر ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف پچ کی تبدیلی کافی ہوگی، یا پھر ٹیم کی بنیادی کمزوریوں کا حل بھی نیا نظام لائے گا؟
اب دیکھنا ہوگا کہ کیا سیاہ مٹی والی پچیں، انڈیا کی ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ نمودار ہونے کا ذریعہ بنیں گی۔
