Cricket News

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025: پاکستان کی شاندار مالی کامیابی اور ہندوستان کی مایوسی

Riya Sen · · 1 min read

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025: ایک نئی مالیاتی تاریخ

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025، جس کی میزبانی پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ طور پر کی، کرکٹ کی تاریخ کے سب سے زیادہ منافع بخش ایونٹس میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے مالی اعداد و شمار نے نہ صرف مبصرین کو حیران کر دیا ہے بلکہ کرکٹ بورڈز کی میزبانی کی صلاحیتوں پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

محسن نقوی، جے شاہ اور راجیو شکلا - پی سی بی، آئی سی سی اور بی سی سی آئی

آئی سی سی نے صرف 15 میچوں سے 638.42 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جس میں سے خالص منافع 586 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ اگر ہم اس کا موازنہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی سے کریں، جو انگلینڈ میں منعقد ہوئی تھی، تو اس وقت آمدنی تقریباً 187 ملین ڈالر تھی۔ پاکستان نے اس ریکارڈ کو تین گنا سے بھی زیادہ بہتر بنایا ہے۔

او ڈی آئی کرکٹ کا شاندار واپسی

کئی ماہرین نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ او ڈی آئی فارمیٹ اپنی مقبولیت کھو رہا ہے، لیکن 2025 کی چیمپئنز ٹرافی نے ان تمام خدشات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ فی میچ اوسطاً 42 ملین ڈالر سے زیادہ کی آمدنی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ شائقین اب بھی اس فارمیٹ کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں، بشرطیکہ ایونٹ کا انتظام اور مارکیٹنگ درست سمت میں ہو۔

پاکستان کی عالمی کرکٹ میں اہمیت

اگرچہ پاکستان کی مقامی کرکٹ مارکیٹ کا عالمی کرکٹ میں حصہ 5 فیصد سے کم ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر آئی سی سی کے ایونٹس میں اس کی کارکردگی اور بھارت کے خلاف میچوں میں مضمر ہے۔ ایک پاک-بھارت میچ اکیلے 200 سے 250 ملین ڈالر کی کمرشل ویلیو پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کل آمدنی کا تقریباً 70 فیصد حصہ آئی سی سی کی تقسیم اور نشریاتی حقوق سے حاصل ہوتا ہے، اور جب بھی آئی سی سی انہیں موقع فراہم کرتا ہے، وہ توقعات کے مطابق نتائج دیتے ہیں۔

بھارت میں میزبانی اور مالیاتی بحران

دوسری جانب، بھارت میں منعقدہ آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 آئی سی سی کے لیے مایوس کن ثابت ہوا۔ اس ایونٹ سے آئی سی سی نے 31.32 ملین ڈالر کمائے، جبکہ میزبانی کے اخراجات 62.71 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئی سی سی کو 31.38 ملین ڈالر کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، کیونکہ 2024 کا ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ بھی 25 ملین ڈالر کے نقصان کا شکار رہا تھا۔

کیا پاکستان کو مزید میزبانی ملے گی؟

آئی سی سی 2024 سے 2027 کے سائیکل میں 3.2 بلین ڈالر کے ریونیو ہدف پر کام کر رہا ہے۔ ایسے میں مالیاتی نتائج کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ کم خرچ میں بہترین نتائج دے سکتا ہے۔ ایک طرف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہے جس نے ایک میچ میں 35.4 ملین ڈالر کمائے، اور دوسری طرف ویمنز ورلڈ کپ ہے جس نے کروڑوں کا نقصان دیا۔ یہ اعداد و شمار آئی سی سی کی آئندہ کی حکمت عملی کے لیے ایک واضح پیغام ہیں۔

آئی سی سی کے لیے اب میزبانی کے حقوق محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ مالیاتی منطق کا تقاضا ہیں۔ اگر آئی سی سی اپنے مالیاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہے، تو پاکستان مستقبل میں مزید بڑے ٹورنامنٹس کا میزبان بننے کا مضبوط دعویدار ہے۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.