Cricket News

ICC کا کرکٹ کینیڈا پر مالیاتی پابندیوں کا نفاذ: بدعنوانی اور میچ فکسنگ کے سنگین الزامات

Sneha Roy · · 1 min read

کرکٹ کینیڈا کے لیے آئی سی سی کی سخت کارروائی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے حال ہی میں کرکٹ کینیڈا کے خلاف ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ان کی تمام مالی تقسیم کو اگلے چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بورڈ کے اندر جاری گورننس کے سنگین مسائل اور انتظامی بحران کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے یہ اقدام کینیڈین کرکٹ کے لیے ایک بڑا مالی دھچکا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ادارہ پہلے ہی شدید تنازعات کی زد میں ہے۔

مالی انحصار اور مستقبل کے چیلنجز

اگرچہ آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ فنڈنگ کی یہ معطلی براہ راست کرکٹ سرگرمیوں یا ہائی پرفارمنس پروگراموں کو متاثر نہیں کرے گی، لیکن ایک ایسوسی ایٹ ممبر کے لیے جو اپنی کل آمدنی کا بڑا حصہ آئی سی سی سے حاصل کرتا ہے، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ 2024 کی مالیاتی رپورٹس کے مطابق، کرکٹ کینیڈا کی کل آمدنی 5.7 ملین کینیڈین ڈالرز تھی، جس میں سے 3.6 ملین (یعنی 63 فیصد) آئی سی سی کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز تھے۔ یہ انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چھ ماہ کی معطلی کینیڈا میں کرکٹ کی ترقی کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے۔

آئی سی سی کی حالیہ تاریخ میں معطلیاں

کرکٹ کینیڈا واحد بورڈ نہیں ہے جو آئی سی سی کی پابندیوں کی زد میں آیا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2025 میں یو ایس اے کرکٹ کی رکنیت بھی آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اور گورننس کی ناکامیوں کی وجہ سے معطل کی گئی تھی۔ اسی طرح، 2023 کے آخر میں سری لنکا کرکٹ کو حکومتی مداخلت کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا، جبکہ زمبابوے کرکٹ بھی ماضی میں ایسے ہی حالات کا سامنا کر چکا ہے۔

تنازعات کی جڑیں: بدعنوانی اور میچ فکسنگ کے الزامات

کرکٹ کینیڈا کی موجودہ صورتحال کے پیچھے کئی تاریک پہلو ہیں۔ کینیڈا کے تحقیقی پروگرام ‘دی ففتھ اسٹیٹ’ کے مطابق، بورڈ میں مالیاتی شفافیت کا فقدان اور پالیسیوں کی خلاف ورزی عام رہی ہے۔ سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری ایک متنازعہ فیصلہ تھا، کیونکہ بعد ازاں ان پر چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات سامنے آئے، جنہیں وہ مسترد کرتے ہیں۔

مزید برآں، سابق کوچ خرم چوہان کی ایک آڈیو لیک ہوئی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ بورڈ کے سینئر ارکان ٹیم کے انتخاب میں مداخلت کر رہے تھے۔ اس آڈیو میں میچ فکسنگ کی کوششوں کا ذکر بھی موجود تھا، جس کے بعد آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ نے تحقیقات شروع کر دیں۔ ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف کینیڈا کا میچ بھی اب آئی سی سی کی تحقیقاتی ٹیم کی نگرانی میں ہے، جس نے بورڈ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اصلاحات کا غیر یقینی مستقبل

آئی سی سی کی جانب سے یہ پابندی اس وقت لگائی گئی جب کرکٹ کینیڈا نے اپنی سالانہ جنرل میٹنگ میں ‘گورننس ٹرانسفارمیشن انیشیٹو’ کے تحت نئے نو رکنی بورڈ کا انتخاب کیا اور اروندر کھوسہ کو صدر مقرر کیا۔ تاہم، آئی سی سی کا فوری ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی کرکٹ باڈی ان اصلاحات سے مطمئن نہیں ہے اور بورڈ کے اندر گہری تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کینیڈین کرکٹ کا مستقبل اب ان سخت فیصلوں اور بورڈ کی شفافیت بحال کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔