آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ: نئے فارمیٹ اور ممبران کی شمولیت پر اہم مشاورت
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا نیا سفر: آئی سی سی کے اہم فیصلوں کی توقع
کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے مستقبل کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے دوبارہ سرگرم ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والی اہم میٹنگز میں ٹیسٹ کرکٹ کو مزید فروغ دینے اور اس کے موجودہ نظام میں تبدیلیوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
آئی سی سی کی آئندہ میٹنگز اور ایجنڈا
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹوز کمیٹی (CEC) کا ایک ورچوئل اجلاس 21 مئی کو طے پایا ہے، جس کے بعد 30 اور 31 مئی کو احمد آباد میں آئی سی سی بورڈ کی ایک اہم میٹنگ ہوگی، جو آئی پی ایل کے فائنل ویک اینڈ کے دوران منعقد کی جائے گی۔ ان اجلاسوں کا بنیادی مقصد ڈبلیو ٹی سی کے اگلے سائیکل کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
ورکنگ گروپ کی تجاویز اور ٹیموں کی تعداد
گزشتہ سال، نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر راجر ٹوز کی سربراہی میں ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا تھا، جس کا کام ڈبلیو ٹی سی کے نئے ڈھانچے کے لیے سفارشات پیش کرنا تھا۔ اگرچہ موجودہ (2027-29) سائیکل کے لیے موجودہ فارمیٹ کو برقرار رکھنے کا امکان زیادہ ہے، تاہم ایک اہم تجویز یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ کو 12 ٹیموں تک وسیع کیا جائے۔ اس کا مقصد زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان جیسے فل ممبران کو بھی اس بڑے پلیٹ فارم کا حصہ بنانا ہے۔
ایک ٹیسٹ میچ کی سیریز: کیا یہ ممکن ہے؟
آئی سی سی کی جانب سے زیر غور تجاویز میں ایک اہم نقطہ یہ بھی شامل ہے کہ کیا ‘ون ٹیسٹ سیریز’ کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس میں شامل کیا جائے۔ فی الحال، نو فل ممبران دو سال کے دوران تین ہوم اور تین اوے سیریز کھیلتے ہیں، جس میں ہر سیریز میں کم از کم دو ٹیسٹ میچز کا ہونا لازمی ہے۔ تاہم، نئے فارمیٹ میں اس اصول کو نرم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ ٹیمیں اس چیمپئن شپ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
مستقبل کے دوروں کا پروگرام (FTP)
آئی سی سی کا موجودہ فیوچر ٹور پروگرام (FTP) اگلے سال مارچ میں ختم ہو رہا ہے، اور ڈبلیو ٹی سی کا اگلا فائنل جون 2027 میں انگلینڈ میں کھیلا جائے گا۔ آئی سی سی کی کوشش ہے کہ ان میٹنگز کے دوران ڈھانچے پر پیش رفت ہو، حالانکہ مئی کی ان میٹنگز میں کسی حتمی فیصلے کی توقع کم ہے۔ تاہم، جولائی میں ایڈنبرا میں ہونے والی آئی سی سی کی سالانہ جنرل میٹنگ (AGM) تک کوئی فیصلہ کن قدم اٹھائے جانے کا قوی امکان ہے۔
پی سی بی اور میٹنگز میں شرکت کا چیلنج
بورڈ میٹنگ کے مقام کو احمد آباد منتقل کیے جانے کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی شرکت کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ روایتی طور پر، پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی کو ذاتی طور پر شرکت کرنی چاہیے، لیکن پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے پیش نظر یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا وہ سرحد پار سفر کریں گے یا ورچوئل طریقے سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ صورتحال کھیل کی سفارت کاری میں ایک اہم چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کا فروغ: کیا تبدیلی آئے گی؟
ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لیے آئی سی سی کی یہ کوششیں قابل ستائش ہیں۔ اگر 12 ٹیمیں اس چیمپئن شپ کا حصہ بنتی ہیں تو کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوگا۔ ایک ٹیسٹ میچ کی سیریز کو شامل کرنے سے چھوٹی ٹیموں کے لیے بڑے ممالک کے خلاف کھیلنے کے مواقع بڑھیں گے، جو ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
خلاصہ یہ کہ کرکٹ کا مستقبل ان میٹنگز کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ شائقین کرکٹ کو امید ہے کہ آئی سی سی ایسا نظام وضع کرے گی جس سے ٹیسٹ کرکٹ نہ صرف محفوظ رہے بلکہ اس کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو۔
