[CRK]
بھارت کی گولڈ کوسٹ میں شاندار فتح
گولڈ کوسٹ میں کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو 48 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 2-1 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ پچ کے حالات نے اسے ایک مشکل بیٹنگ ٹریک بنا دیا تھا، لیکن بھارتی بولرز نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی صورتحال میں میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسپنرز کا جادو اور دوبے کی کارکردگی
بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 167 رنز بنائے، جو کہ ابتدا میں قدرے کم دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم، بھارتی اسپنرز نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ اکسر پٹیل نے اپنے چار اوورز میں صرف 20 رنز دیے اور 12 ڈاٹ بالز کروا کر آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔
دوسری جانب، شیوم دوبے نے اپنی آل راؤنڈ کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے اہم موقعوں پر وکٹیں حاصل کیں، خاص طور پر ٹم ڈیوڈ کا شکار کر کے آسٹریلیا کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ واشنگٹن سندر کی تباہ کن بولنگ نے رہی سہی کسر پوری کر دی، جس کے نتیجے میں آسٹریلوی ٹیم صرف 119 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
میچ کے اہم لمحات
- ایڈم زیمپا کی واپسی: آسٹریلوی بولر ایڈم زیمپا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، لیکن ان کی محنت رنگ نہ لا سکی۔
- ناتھن ایلس کی عمدہ بولنگ: ایلس نے اپنے 4 اوورز میں صرف 21 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جو کہ آسٹریلیا کے لیے واحد مثبت پہلو تھا۔
- گلین میکسویل کا ناکام واپس آنا: انجری کے بعد واپس آنے والے میکسویل ورون چکرورتی کی گگلی کو سمجھنے میں مکمل ناکام رہے اور آؤٹ ہو گئے۔
بولنگ کا ڈومیننس اور ورلڈ کپ کی تیاری
یہ میچ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ دونوں ٹیموں نے تسلیم کیا کہ پچ کے حالات برصغیر کی پچوں جیسے تھے۔ بھارتی اسپنرز کا اس طرح کا دبدبہ دیکھ کر آسٹریلیا کو اگلے سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے محتاط ہو جانا چاہیے۔ بھارت نے جس طرح دباؤ میں بیٹنگ اور بولنگ کی، وہ ان کی موجودہ فارم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نتیجہ
20,470 شائقین کی موجودگی میں بھارت نے ایک یادگار جیت حاصل کی۔ اب آسٹریلیا کے پاس صرف سیریز برابر کرنے کا آخری موقع ہے جو گابا میں کھیلا جائے گا۔ بھارتی ٹیم کے لیے یہ سیریز نہ صرف جیت کے اعتبار سے اہم ہے بلکہ ان کھلاڑیوں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے بھی کلیدی ہے جو مستقبل کے بڑے ایونٹس کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔
بھارتی بلے بازوں میں شبمن گل نے 46 رنز کی اننگز کھیلی جس نے ٹیم کو ایک باعزت مجموعے تک پہنچانے میں مدد کی۔ اگرچہ مڈل آرڈر میں کچھ لڑکھڑاہٹ دیکھنے میں آئی، لیکن بولرز نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی۔ یہ جیت بھارت کے لیے اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے گراؤنڈ پر فتح حاصل کی جہاں ہوم ٹیم کو ہمیشہ برتری حاصل رہتی ہے۔
سیریز کا آخری میچ اب شائقین کرکٹ کے لیے مرکزِ نگاہ ہے، جہاں آسٹریلیا اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ بھارتی ٹیم سیریز کو 3-1 سے جیتنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گی۔