Cricket News

بھارت بمقابلہ پاکستان ٹیسٹ سیریز: آئی سی سی کے اہم اجلاس میں بڑی پیش رفت متوقع

Riya Sen · · 1 min read

آئی سی سی کا اہم اجلاس: کیا پاک بھارت ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کا وقت آ گیا ہے؟

کرکٹ کی دنیا میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) آئندہ دنوں میں اہم اجلاسوں کی تیاری کر رہی ہے۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے مستقبل کو محفوظ بنانا اور ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ سب سے اہم بات جس نے شائقین کی توجہ حاصل کی ہے، وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ممکنہ واپسی کا موضوع ہے۔

اجلاس کا پس منظر اور اہم نکات

آئی سی سی کے یہ اجلاس 30 اور 31 مئی کو احمد آباد میں آئی پی ایل 2026 کے فائنل ویک اینڈ کے دوران منعقد ہوں گے۔ اس سے قبل، 21 مئی کو چیف ایگزیکٹوز کمیٹی (CEC) کا ایک ورچوئل اجلاس بھی طے پایا ہے۔ یہ ملاقاتیں آئی سی سی کے معمول کے منصوبہ بندی کے عمل کا حصہ ہیں جن میں کھیل کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔

محسن نقوی کی شرکت پر سوالات

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کی ان اجلاسوں میں شرکت کے حوالے سے تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ کے پیش نظر، یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر بھارت جانے کے بجائے ورچوئل طریقے سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ممکنہ تبدیلیاں

سابق نیوزی لینڈ بلے باز راجر ٹوس کی سربراہی میں ایک خصوصی ورکنگ گروپ نے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کئی تجاویز دی ہیں۔ سب سے اہم تجویز چیمپئن شپ میں ٹیموں کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 کرنا ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہوتی ہے تو زمبابوے، آئرلینڈ اور افغانستان جیسی ٹیمیں مستقبل میں اس چیمپئن شپ کا حصہ بن سکیں گی، جس سے ٹیسٹ کرکٹ زیادہ جامع اور مسابقتی ہو جائے گی۔

پاک بھارت ٹیسٹ کرکٹ کا خواب

اگر آئی سی سی کے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے، تو شائقین کرکٹ ایک بار پھر روایتی حریفوں کو ٹیسٹ میدان میں مدمقابل دیکھ سکیں گے۔ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان مستقبل کے آئی سی سی ٹورز میں تمام رکن ممالک، بشمول بھارت، کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2007-08 میں کھیلی گئی تھی، جس کے بعد سے سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ معطل ہے۔

ون ٹیسٹ سیریز کا نیا تصور

اجلاسوں میں ایک اور اہم موضوع ‘ایک ٹیسٹ میچ کی سیریز’ کا تصور ہے۔ فی الحال، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ہر سیریز کے لیے کم از کم دو ٹیسٹ میچز لازمی ہیں۔ تاہم، کچھ حکام کا ماننا ہے کہ ایک ٹیسٹ کی سیریز سے چھوٹے کرکٹ بورڈز کو سفری اخراجات اور شیڈولنگ میں آسانی ہوگی۔ دوسری جانب، کرکٹ ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اسے ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کے لیے خطرہ سمجھتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک لمبی سیریز ہی کھلاڑیوں کی مستقل مزاجی کا اصل امتحان ہوتی ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اس وقت اپنے چوتھے سائیکل میں ہے، اور اطلاعات کے مطابق 2027-29 کے سائیکل میں بھی موجودہ ڈھانچہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ آئی سی سی کے حکام اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے نئے اور جدید اقدامات کی ضرورت ہے، تاہم کوئی بھی حتمی فیصلہ تمام رکن ممالک کے اتفاق رائے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ کرکٹ کی دنیا کی نظریں اب جولائی میں ایڈنبرا میں ہونے والی سالانہ جنرل میٹنگ پر مرکوز ہیں، جہاں ان تمام تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ کرکٹ کی حکمران تنظیم اب کھیل کے سب سے پرانے فارمیٹ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چاہے وہ ٹیموں کی تعداد میں اضافہ ہو یا پاک بھارت ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی، یہ فیصلے آنے والے وقتوں میں کرکٹ کی تاریخ بدل سکتے ہیں۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.