News

ایشون کشن کی شاندار اننگز: مشکل پچ پر فتح کی کہانی

Aditya Kulkarni · · 1 min read

ایشون کشن کا میچ وننگ عزم

کرکٹ کے کھیل میں جب پچ بیٹنگ کے لیے سازگار نہ ہو تو ایک بلے باز کی اصل قابلیت کا امتحان ہوتا ہے۔ سن رائزرز حیدرآباد کے بلے باز ایشون کشن نے حال ہی میں چنئی سپر کنگز کے خلاف کچھ ایسا ہی مظاہرہ کیا۔ 180 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کشن نے شروع سے ہی یہ محسوس کر لیا تھا کہ یہ وکٹ آسان نہیں ہے اور یہاں شاٹس کھیلنا ایک چیلنج ہے۔

مشکل وکٹ اور کشن کا پلان

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ایشون کشن نے انکشاف کیا کہ وکٹ کیپنگ کے دوران ہی انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ بلے بازی کے لیے یہ پچ کتنی مشکل ہے۔ خاص طور پر اسپنرز اور سلو گیندوں کا سامنا کرنا بلے بازوں کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔ کشن نے کہا: ‘میں نے محسوس کیا کہ تعاقب کرنا بہت مشکل ہوگا، لیکن ایک نمبر 3 کے بلے باز کے طور پر میری ذمہ داری تھی کہ میں آخر تک کھڑا رہوں۔’

کشن نے اپنی 47 گیندوں پر 70 رنز کی اننگز میں ثابت کیا کہ ٹی 20 کرکٹ میں صرف جارحانہ بیٹنگ ہی نہیں بلکہ حالات کے مطابق کھیلنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے 148.93 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ بیٹنگ کی اور اپنی ٹیم کو کامیابی کے قریب پہنچایا۔

ہینرک کلاسن کا ساتھ

اننگز کے درمیان ہینرک کلاسن کا کشن کے ساتھ مل کر بیٹنگ کرنا ٹیم کے لیے بہت مفید ثابت ہوا۔ کلاسن نے شروع میں محتاط رہنے کے بعد اپنی جارحانہ فطرت دکھاتے ہوئے اسپنرز پر دباؤ ڈالا۔ کلاسن نے اعتراف کیا کہ شروع میں کچھ گیندیں روکنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس وکٹ پر صرف دفاعی انداز کام نہیں کرے گا اور انہیں جارحانہ ہونا پڑے گا۔

خود اعتمادی کی اہمیت

کشن کا ماننا ہے کہ ایسے مشکل حالات میں سب سے اہم چیز اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘آپ کسی بھی لمحے خود پر شک نہیں کر سکتے۔ میں نے چیزوں کو سادہ رکھا اور کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ اوورز تک بیٹنگ کروں۔ ایک بائیں ہاتھ کا بلے باز ہونے کے ناطے، میرے لیے یہ فائدہ مند رہا کہ میں نے بولرز کو اپنے ایریاز درست رکھنے کا موقع نہیں دیا۔’

نتیجہ

یہ فتح صرف ایک جیت نہیں بلکہ سن رائزرز حیدرآباد کے کھلاڑیوں کی ذہنی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ چاہے پچ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، کشن اور کلاسن کی جوڑی نے یہ ثابت کر دیا کہ درست حکمت عملی اور خود اعتمادی کے ساتھ کسی بھی ہدف کا تعاقب ممکن ہے۔ کشن کی یہ اننگز آنے والے میچوں کے لیے ان کی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

چنئی کی یہ وکٹ، جو ماضی میں بھی بلے بازوں کے لیے امتحان رہی ہے، ایک بار پھر ثابت کر گئی کہ یہاں کرکٹ کھیلنا آسان نہیں ہے۔ تاہم، کشن جیسے کھلاڑیوں کی بدولت ہی شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔