News

جان میکلین، سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر، 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

Sneha Roy · · 1 min read

جان میکلین: ایک عظیم کرکٹر اور سچے رہنما کا انتقال

آسٹریلیا اور کوئینز لینڈ کے سابق وکٹ کیپر جان میکلین 80 سال کی عمر میں ایک طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی وفات سے آسٹریلوی کرکٹ، خاص طور پر کوئینز لینڈ کرکٹ، میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جس کی بھرپائی مشکل ہے۔ میکلین کو نہ صرف ان کی وکٹ کیپنگ کی مہارت اور بیٹنگ صلاحیتوں کے لیے یاد کیا جائے گا بلکہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور کرکٹ کے کھیل کے لیے ان کی غیر متزلزل لگن کے لیے بھی خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ ان کی زندگی کرکٹ کے لیے وقف تھی، جس میں ایک کھلاڑی، کپتان، اور پھر ایک تجربہ کار ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کئی دہائیوں پر محیط خدمات شامل تھیں۔

ابتدائی کیریئر اور ریاستی ریکارڈز

جان میکلین نے 1968 میں کوئینز لینڈ کے لیے اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا اور فوری طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی سیزن میں ریاست کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جب انہوں نے ایک سیزن میں سب سے زیادہ آؤٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا، جو اس سے قبل آسٹریلیا کے سابق وکٹ کیپر والی گراؤٹ کے پاس تھا۔ یہ ایک شاندار آغاز تھا جو ان کی غیر معمولی مہارت اور کھیل پر گرفت کو ظاہر کرتا تھا۔ اسی سیزن میں، انہوں نے شیفیلڈ شیلڈ میں اپنا سب سے زیادہ فرسٹ کلاس سکور 156 رنز بھی بنایا، جو ان کی بیٹنگ کی قابلیت کا بھی ثبوت تھا۔ یہ کارکردگیاں جلد ہی انہیں قومی منظر نامے پر لے آئیں، جس سے ان کے بین الاقوامی کیریئر کی بنیاد پڑی۔

ورلڈ سیریز کرکٹ اور بین الاقوامی موقع

ان شاندار کارکردگیوں کے نتیجے میں انہیں 1969-70 میں نیوزی لینڈ کے آسٹریلیا ڈیولپمنٹ ٹور کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں وہ گریگ چیپل اور ڈینس للی جیسے مستقبل کے لیجنڈز کے ساتھ کھیلے۔ تاہم، اسی سال کے آخر میں، 1970-71 کی ایشز سیریز کے افتتاحی ٹیسٹ کے لیے راڈ مارش کو میکلین پر ترجیح دی گئی، اور میکلین کو آسٹریلیا کے لیے کھیلنے کا اگلا موقع 1978-79 تک نہیں ملا۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب ورلڈ سیریز کرکٹ (WSC) کی وجہ سے آسٹریلیا کے بہت سے بہترین کھلاڑی، بشمول نمبر 1 وکٹ کیپر راڈ مارش، ٹیسٹ ٹیم میں کھیلنے سے پابندی کا شکار تھے۔ اسی صورتحال نے میکلین کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے کھولے، اور انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 1978-79 کی ہوم ایشز سیریز کے دوران آسٹریلیا کے لیے چار ٹیسٹ اور دو ون ڈے کھیلے۔ یہ ان کے فرسٹ کلاس کیریئر کا آخری سیزن بھی ثابت ہوا۔

کوئینز لینڈ کرکٹ کے ایک اہم ستون

جان میکلین کوئینز لینڈ کی ٹیم کا ایک کلیدی حصہ تھے جس نے 1973-74 اور 1977-78 کے درمیان پانچ شیفیلڈ شیلڈ سیزن میں سے چار میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کی موجودگی اور مہارت نے ٹیم کو مسلسل کامیابیوں کی طرف گامزن رکھا۔ انہوں نے اپنے 86 شیلڈ میچز میں سے 30 میں کوئینز لینڈ کی قیادت بھی کی، جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک غیر معمولی اقدام میں، وہ ساؤتھ آسٹریلیا سے گریگ چیپل کو کوئینز لینڈ کی طرف راغب کرنے میں مدد کے لیے کپتانی سے دستبردار ہو گئے، جو ان کے ’ٹیم فرسٹ‘ نقطہ نظر اور کوئینز لینڈ کرکٹ کی بہتری کے لیے ان کی ذاتی قربانی کا مظہر تھا۔ یہ فیصلہ کوئینز لینڈ کرکٹ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے مستقبل کی کامیابیوں کی راہ ہموار کی۔

متاثر کن اعداد و شمار اور لگن

میکلین نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا اختتام 385 آؤٹ کے ساتھ کیا، جس میں 354 کیچز اور 31 سٹمپنگز شامل تھیں۔ کوئینز لینڈ کے لیے ان کے 314 آؤٹ، جن میں 290 کیچز اور 24 سٹمپنگز شامل ہیں، ریاست کے لیے چوتھے سب سے زیادہ اور شیفیلڈ شیلڈ کی تاریخ میں گیارہویں سب سے زیادہ آؤٹ ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان کی مستقل مزاجی، مہارت اور کھیل سے ان کی گہری وابستگی کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ ان کی وکٹ کیپنگ کی مہارت کو ہمیشہ سراہا گیا، اور وہ اپنی نسل کے بہترین وکٹ کیپرز میں سے ایک سمجھے جاتے تھے۔

کھیل کے بعد کی خدمات اور اعزازات

کھلاڑی کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی، جان میکلین نے کرکٹ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں۔ انہیں 1980 کی کوئینز کی سالگرہ کے اعزازات کی فہرست میں کرکٹ کی خدمات کے لیے ایم بی ای (MBE) سے نوازا گیا۔ وہ 1990-91 میں کوئینز لینڈ کرکٹ کے نائب صدر اور 1992-94 کے درمیان صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ (اب کرکٹ آسٹریلیا) میں کھلاڑیوں کی کمیٹی کے نمائندے کے طور پر بھی کام کیا اور 1998 میں انہیں کوئینز لینڈ کرکٹ کی لائف ممبرشپ سے نوازا گیا۔ یہ سب ان کے کرکٹ کے لیے گہرے لگاؤ اور کھیل کی ترقی کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کا ثبوت ہے۔

ایک پائیدار وراثت: کوئینز لینڈ کرکٹ کی جانب سے خراج تحسین

موجودہ کوئینز لینڈ کرکٹ کی چیئرپرسن کرسٹن پائیک نے ریاست میں کھیل کے لیے میکلین کی اہم خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پائیک نے کہا،