Cricket News

لٹن داس کا کمال: بنگلہ دیش کے لیے ایک اور شاندار ریسکیو اننگز

Riya Sen · · 1 min read

لٹن داس: بنگلہ دیشی کرکٹ کا نیا ‘کرائسز مین’

کرکٹ کی تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے، اور راولپنڈی کے اسٹیڈیم میں ایک بار پھر وہی منظر دیکھنے کو ملا جو دو سال قبل بنگلہ دیشی شائقین کے لیے ایک سنہری یاد بن گیا تھا۔ پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن جب بنگلہ دیشی ٹیم 106 رنز پر چار وکٹیں گنوا کر شدید دباؤ میں تھی، تو سب کی نظریں ایک بار پھر لٹن داس پر مرکوز تھیں۔

تاریخ کا اعادہ

لٹن داس نے اپنی روایتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ اننگز اس لحاظ سے اہم تھی کہ اس نے بنگلہ دیش کو 278 رنز کے قابلِ احترام مجموعے تک پہنچا دیا۔ یہ کارکردگی ستمبر 2024 کی ان یادگار یادوں کو تازہ کر گئی جب لٹن داس نے اسی میدان پر ایک ایسی اننگز کھیلی تھی جس نے بنگلہ دیش کو پاکستان کے خلاف تاریخی سیریز جتوائی تھی۔

راولپنڈی میں ابتدائی تباہی

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو 2024 کے راولپنڈی ٹیسٹ کا آغاز بنگلہ دیش کے لیے ڈراؤنے خواب کی طرح تھا۔ خرم شہزاد اور میر حمزہ کی تباہ کن بولنگ کے سامنے بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا اور صرف 34 گیندوں کے اندر چھ وکٹیں گر گئیں۔ سکور بورڈ پر صرف 26 رنز تھے اور ٹیم اپنے ٹیسٹ کرکٹ کے کم ترین سکور کے خطرے سے دوچار تھی۔

لٹن داس اور مہدی حسن کا جوابی حملہ

ایسی نازک صورتحال میں لٹن داس اور مہدی حسن میراز نے کریز سنبھالی۔ دونوں کھلاڑیوں نے نہ صرف ابتدائی دباؤ کو برداشت کیا بلکہ لنچ تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔ لنچ کے بعد لٹن داس نے جارحانہ انداز اپنایا۔ مہدی حسن میراز نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنی آٹھویں ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کی۔ ساتویں وکٹ کے لیے 165 رنز کی شراکت داری نے میچ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔

تاریخی سنچری اور فتح کی بنیاد

خرم شہزاد نے مہدی حسن میراز کو آؤٹ کرکے پانچ وکٹیں مکمل کیں، لیکن لٹن داس نے ہار نہیں مانی۔ دسویں نمبر پر آنے والے حسن محمود کے ساتھ مل کر لٹن داس نے دو گھنٹے سے زائد تک پاکستانی بولرز کو بے بس رکھا۔ لٹن داس نے بالآخر اپنی سنچری مکمل کی اور 138 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اس جدوجہد کی بدولت بنگلہ دیش نے 262 رنز بنائے، جس نے پاکستان کی پہلی اننگز کی برتری کو صرف 12 رنز تک محدود کر دیا۔

نتیجہ

اسی 262 کے سکور نے بنگلہ دیش کو میچ میں واپس لایا اور چوتھی اننگز میں 185 رنز کا ہدف حاصل کرکے ٹیم نے 2-0 سے سیریز اپنے نام کی۔ لٹن داس کی وہ اننگز کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اب 2026 میں ایک بار پھر لٹن داس نے اسی عزم کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے پاکستان کو اب ایک مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔

لٹن داس کا یہ صبر اور تکنیکی مہارت ثابت کرتی ہے کہ وہ موجودہ دور کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک کیوں ہیں۔ یہ اننگز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک نئی امید کی کرن بھی ہے۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.