لٹن داس کا انکشاف: بنگلہ دیشی پچز نے ان کی بیٹنگ اوسط کو نقصان پہنچایا
لٹن داس کا کرکٹ کیریئر اور اعدادوشمار کا تنازعہ
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس اپنی شاندار تکنیک اور خوبصورت شاٹس کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی بیٹنگ میں جو نفاست ہے، وہ بہت کم کھلاڑیوں کے پاس ہے۔ تاہم، جب ان کے ون ڈے کیریئر کے اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ ان کی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف کرتے نظر نہیں آتے۔ حال ہی میں لٹن داس نے اس حوالے سے انتہائی کھل کر بات کی ہے اور اپنی اوسط میں کمی کا ذمہ دار بنگلہ دیشی پچز کو ٹھہرایا ہے۔
میرپور کی پچز: بیٹرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب
لٹن داس کا ماننا ہے کہ ان کا کرکٹ کیریئر کا ایک بڑا حصہ شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم (میرپور) کی مشکل پچز پر گزرا ہے۔ میرپور کی پچز روایتی طور پر بولرز کی جنت سمجھی جاتی رہی ہیں، جہاں بیٹرز کے لیے رنز بنانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ لٹن نے کہا، ‘اگر میں نے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں اتنے زیادہ میچز نہ کھیلے ہوتے تو میری اوسط اور اسٹرائیک ریٹ اتنا کم نہ ہوتا۔’ ان کے مطابق، یہاں کئی عالمی معیار کے بیٹرز بھی جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں۔
اعدادوشمار پر افسوس
لٹن داس کی ون ڈے اوسط فی الحال 30 کے قریب ہے، اور وہ اس سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے ایمانداری سے اعتراف کیا کہ ‘ون ڈے میں 30 کی اوسط پر فخر کرنے جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر یہ اوسط کسی اور بڑی کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کے لیے ہوتی تو میں اسے یقیناً ناقص قرار دیتا۔’ لٹن کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو کس اعلیٰ معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
بہتر پچز، روشن مستقبل
لٹن داس نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ حال ہی میں بنگلہ دیش میں بیٹنگ کے لیے سازگار پچز تیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘پچز اب کافی بہتر ہو چکی ہیں۔ اگر حالات اگلے پانچ سے چھ سال تک ایسے ہی رہے تو یہ بیٹرز کے لیے بہت مددگار ثابت ہوگا۔’ ان کا ماننا ہے کہ بہتر پچز ملنے سے بنگلہ دیشی بیٹرز کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
لٹن داس کا ذاتی ہدف
اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین رکھتے ہوئے، لٹن داس نے اپنے کیریئر کے لیے ایک بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ وہ اپنے ون ڈے کیریئر کو 40 سے 45 کی اوسط کے ساتھ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک بڑا فرق ہے، لیکن اگر بنگلہ دیش میں بیٹرز کو کھیلنے کے لیے fairer پچز ملتی رہیں تو یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔
کامیابی کی قیمت
لٹن نے اس تلخ حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ بنگلہ دیش اکثر مشکل پچز پر میچز جیت جاتا تھا، جس کی وجہ سے بیٹرز کی انفرادی کارکردگی کے مسائل پسِ پشت چلے جاتے تھے۔ ‘پہلے وہ پچز بیٹر کے اعدادوشمار کو خراب کرنے کے لیے کافی تھیں، لیکن لوگ خوش تھے کیونکہ ٹیم جیت رہی تھی۔’ اب وقت بدل رہا ہے، اور لٹن خود کو ایک مکمل بیٹر کے طور پر منوانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بہتر پچز لٹن داس کو ان کے اہداف تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔
