Cricket News

لٹن داس اور محمد رضوان: میدان میں لفظی جنگ اور گرما گرم بحث

Aditya Kulkarni · · 1 min read

میدانِ جنگ میں بدلتا کرکٹ کا کھیل

کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان نوک جھونک کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن جب بات بنگلہ دیش اور پاکستان جیسی روایتی حریف ٹیموں کی ہو تو جذبات عروج پر ہوتے ہیں۔ سلہیٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا جب بنگلہ دیشی وکٹ کیپر لٹن داس اور پاکستانی بیٹر محمد رضوان ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے۔

لٹن داس کا طنزیہ انداز

واقعہ میچ کی دوسری اننگز کے 72ویں اوور میں پیش آیا، جب محمد رضوان نے سائٹ اسکرین کے قریب ہونے والی نقل و حرکت پر اعتراض کیا۔ اس موقع پر لٹن داس، جو اپنی جارحانہ فیلڈنگ کے لیے جانے جاتے ہیں، نے رضوان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ محض ‘اداکاری’ کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ اسٹمپ مائیک پر لٹن داس کی آواز صاف سنائی دی، جس نے اس تنازع کو مزید ہوا دی۔

لٹن داس اور محمد رضوان

پرانے تنازعات کا تسلسل

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی ہو۔ گزشتہ ہفتے میرپور میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران بھی لٹن داس نے رضوان کو نشانہ بنایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، لٹن داس نے ماضی میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ رضوان کی پاکستان میں ساکھ خراب ہے اور اگر وہ یہاں کوئی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے تو انہیں پاکستان میں داخلے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ یہ جملے بلاشبہ حد سے تجاوز کرنے کے مترادف تھے اور دونوں کھلاڑیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سلہیٹ ٹیسٹ: ایک مشکل ہدف کا تعاقب

پاکستان کو یہ سیریز برابر کرنے کے لیے 437 رنز کا ایک پہاڑ جیسا ہدف درکار تھا۔ دن کے آغاز میں پاکستانی ٹیم کو مشکلات کا سامنا رہا اور اوپنرز جلد پویلین لوٹ گئے۔ تاہم، بابر اعظم نے 47 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی اور کپتان شان مسعود نے 116 گیندوں پر 71 رنز بنا کر ٹیم کو سنبھالا دینے کی کوشش کی۔ لیکن تیج الاسلام کی شاندار بولنگ نے پاکستان کو 162 رنز پر 5 وکٹوں کے نقصان تک پہنچا دیا تھا۔

محمد رضوان اور سلمان آغا کی جوابی کارروائی

پاکستان کی امیدیں محمد رضوان اور سلمان آغا پر ٹکی ہوئی تھیں۔ رضوان نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی 14ویں ٹیسٹ نصف سنچری اسکور کی اور سلمان آغا کے ساتھ مل کر 134 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی۔ اس جوڑی نے پاکستان کو 300 رنز کے ہندسے سے آگے پہنچا کر میچ میں دلچسپ موڑ پیدا کر دیا۔

میچ کا پس منظر

بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں لٹن داس کی شاندار سنچری کی بدولت 278 رنز بنائے تھے۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے گیند بازوں نے پاکستان کو جلد آؤٹ کر کے 46 رنز کی برتری حاصل کر لی تھی۔ تیسرے دن، تجربہ کار مشفیق الرحیم نے ایک ریکارڈ ساز سنچری بنا کر بنگلہ دیش کی دوسری اننگز کا مجموعہ 390 تک پہنچا دیا، جس سے پاکستان کے لیے جیت کا ہدف 437 رنز مقرر ہوا جو کہ اس وکٹ پر ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

نتیجہ

کرکٹ کے کھیل میں کھلاڑیوں کا جوش اور جذبہ سمجھ میں آتا ہے، لیکن کھیل کی روح کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ لٹن داس اور محمد رضوان کے درمیان یہ لفظی جنگ جہاں مداحوں کے لیے ایک موضوع بحث بنی ہوئی ہے، وہیں یہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دباؤ کتنا زیادہ ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سیریز کا فیصلہ کن موڑ کس ٹیم کے حق میں جاتا ہے۔