News

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان: میرپور ٹیسٹ میں سنسنی خیز موڑ، اشرفل کا جیت کا دعویٰ

Aditya Kulkarni · · 1 min read

میرپور ٹیسٹ: بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان اعصاب شکن معرکہ

بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان میرپور میں جاری ٹیسٹ میچ اب ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں ہر لمحہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بارش سے متاثرہ چوتھے دن کے اختتام پر بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز میں 179 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔ اگرچہ کھیل کے دوران بارش نے کئی بار مداخلت کی، لیکن میدان میں موجود کھلاڑیوں کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پاکستان کے آل راؤنڈر سلمان آغا کا ماننا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ٹیم کو واضح برتری حاصل نہیں ہے، جبکہ بنگلہ دیشی کیمپ میچ جیتنے کے لیے پرامید دکھائی دیتا ہے۔

سلمان آغا کا تجزیہ اور پاکستان کی حکمت عملی

پاکستان کے آل راؤنڈر سلمان آغا نے کھیل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سی ٹیم بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کا پانچواں دن انتہائی دلچسپ ہوگا۔ سلمان آغا کے مطابق، پاکستان کی حکمت عملی واضح ہے: وہ بنگلہ دیشی بلے بازوں کو جلد از جلد آؤٹ کرنا چاہتے ہیں۔

سلمان آغا نے ہدف کے تعاقب کے حوالے سے کہا، ‘اگر بنگلہ دیش ہمیں 70 اوورز میں 260 رنز کا ہدف دیتا ہے، تو ہم یقینی طور پر اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔’ تاہم، انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ شاید بنگلہ دیش ایسا خطرہ مول نہ لے۔ ان کا خیال تھا کہ بنگلہ دیش کی پہلی ترجیح پاکستان کو میچ سے باہر کرنا ہوگی تاکہ ہار کا خطرہ کم سے کم کیا جا سکے۔

نجم الحسن شانتو اور مومنول حق کی شاندار شراکت داری

بنگلہ دیش کی دوسری اننگز میں اس وقت استحکام آیا جب نجم الحسن شانتو اور مومنول حق نے تیسری وکٹ کے لیے 105 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی۔ اس پارٹنرشپ نے نہ صرف بنگلہ دیش کی پوزیشن کو مضبوط کیا بلکہ پاکستانی گیند بازوں کو بھی دباؤ میں رکھا۔ بیٹنگ کوچ محمد اشرفل نے ان دونوں بلے بازوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے میچ کا اہم موڑ قرار دیا۔

اشرفل کا کہنا تھا کہ شانتو اور مومنول نے جس پختہ مزاجی کا مظاہرہ کیا، اس نے ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ مشفیق الرحیم نے بھی خراب گیندوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جس سے رنز کی رفتار برقرار رہی۔ اشرفل کے مطابق، ٹیم ایک سادہ اور واضح پلان پر عمل پیرا ہے۔

محمد اشرفل کا جیت کا یقین اور باؤلرز پر اعتماد

بنگلہ دیش کے بیٹنگ کوچ محمد اشرفل نے پانچویں دن کے حوالے سے اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ نے ابھی تک ہدف یا اننگز ڈکلیئر کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن وہ جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ اشرفل نے کہا، ‘ہم یہ ٹیسٹ میچ جیتنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمیں باؤلنگ کے لیے 70 سے 75 اوورز ملتے ہیں، تو ہمیں یقین ہے کہ ہم پاکستان کی پوری ٹیم کو آؤٹ کر سکتے ہیں۔’

انہوں نے مزید کہا کہ میرپور کی وکٹ پر بلے بازی کرنا آسان نہیں ہے اور یہاں نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ اشرفل نے اپنے بلے بازوں کو خبردار کیا کہ وہ غفلت کا شکار نہ ہوں، کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کئی بار ٹیمیں 400 یا 500 رنز بنانے کے بعد بھی تیسری اننگز میں ناقص کارکردگی کی وجہ سے میچ ہار چکی ہیں۔

اوپنرز کی فارم اور مستقبل کی امیدیں

بنگلہ دیش کے لیے اس میچ میں سب سے بڑی تشویش ان کے اوپنرز، شادمان اسلام اور محمود الحسن جوئے کی ناکامی رہی ہے۔ دونوں اوپنرز میچ کی دونوں اننگز میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ خاص طور پر محمد عباس کی نپی تلی باؤلنگ اور ان کی جانب سے کی جانے والی ‘سلیجنگ’ نے بنگلہ دیشی اوپنرز کو کافی پریشان کیا۔

تاہم، محمد اشرفل اپنے اوپنرز کے دفاع میں سامنے آئے۔ انہوں نے کہا، ‘میں اوپنرز کی فارم کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوں۔ آئرلینڈ کے خلاف گزشتہ سیریز میں انہوں نے تین بڑی شراکتیں قائم کی تھیں۔ جوئے نے حال ہی میں 171 رنز کی بہترین اننگز کھیلی تھی۔’ اشرفل نے اعتراف کیا کہ نئی گیند کے خلاف کھیلنا مشکل تھا لیکن انہیں امید ہے کہ دونوں اوپنرز اگلے میچ میں بھرپور فارم کے ساتھ واپس آئیں گے۔

میچ کا پانچواں دن: ایک فیصلہ کن معرکہ

اب تمام نظریں پانچویں دن کے کھیل پر مرکوز ہیں۔ کیا بنگلہ دیش ایک جارحانہ ہدف سیٹ کر کے پاکستان کو چیلنج کرے گا، یا پاکستان کے باؤلرز جلد وکٹیں لے کر میچ کا پانسہ پلٹ دیں گے؟ میرپور کی پچ پانچویں دن اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جو بنگلہ دیشی اسپنرز کے لیے ایک سنہری موقع ہوگا۔

کرکٹ شائقین کے لیے یہ ٹیسٹ اب ایک کلاسیکی مقابلے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں جیت اور ہار کا فیصلہ حکمت عملی اور اعصاب کے قابو پر منحصر ہوگا۔ اشرفل کے مطابق، ان کی ٹیم ذہنی طور پر تیار ہے اور وہ پاکستان کو کسی بھی صورت میں آسان موقع فراہم نہیں کریں گے۔