انگلینڈ کے سابق کپتان ایم جے کے اسمتھ 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
کرکٹ کی دنیا کے ایک عہد کا اختتام: ایم جے کے اسمتھ کا انتقال
انگلینڈ اور وارکشائر کے سابق کپتان، ایم جے کے اسمتھ، 92 برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ ان کا انتقال کرکٹ کی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ایک شاندار کھلاڑی تھے بلکہ کھیل کی روح اور وقار کی علامت بھی سمجھے جاتے تھے۔
ایک شاندار کرکٹ کیریئر
ایم جے کے اسمتھ نے 1958 سے 1972 کے درمیان انگلینڈ کی نمائندگی کی، جس میں انہوں نے 50 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا۔ ان میں سے 25 میچوں میں انہوں نے کپتانی کے فرائض سرانجام دیے۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر میں انہوں نے 2,278 رنز بنائے، جس میں 3 سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1976 میں انہیں او بی ای (OBE) کے اعزاز سے نوازا گیا۔
وارکشائر کے لیے گراں قدر خدمات
وارکشائر کے ساتھ ان کا تعلق تقریباً 19 سالوں پر محیط تھا، جو 1956 سے 1975 تک جاری رہا۔ اس دوران وہ 10 سال تک ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ 1959 کا سیزن ان کے کیریئر کا یادگار ترین سال تھا، جب انہوں نے کلب ریکارڈ 2,417 رنز بنائے۔ ان کی مجموعی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں 637 میچ کھیل کر 39,832 رنز بنائے، جو کہ کرکٹ کی تاریخ میں 18 واں سب سے بڑا مجموعہ ہے۔
کھیل اور مزاج
ایم جے کے اسمتھ اپنی حلیم الطبعی اور شائستہ شخصیت کے لیے مشہور تھے۔ وہ ایک ایسے دور میں کرکٹ کھیل رہے تھے جب کپتانی کو ایک شریف آدمی کا کام سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کپتانی کا ریکارڈ ان کے محتاط انداز کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انہوں نے 25 ٹیسٹ میں سے 5 جیتے، 3 ہارے اور 17 ڈرا کیے۔ وہ صرف ایک سیریز ہارے جو 1966 میں گیری سوبرز کی طاقتور ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف تھی۔
ایک ہمہ جہت کھلاڑی
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمتھ ایک نایاب کھلاڑی تھے جنہوں نے کرکٹ کے علاوہ رگبی یونین میں بھی ملک کی نمائندگی کی۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور لیسٹر شائر کی جانب سے رگبی کھیلتے تھے اور 1956 میں انہوں نے انگلینڈ کے لیے رگبی کا ایک میچ بھی کھیلا تھا۔
کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد
کھیل کو خیرباد کہنے کے بعد بھی اسمتھ کرکٹ سے دور نہ ہوئے۔ وہ وارکشائر کے چیئرمین رہے اور آئی سی سی کے میچ ریفری کے فرائض بھی انجام دیے، جس میں 4 ٹیسٹ اور 17 ون ڈے میچز شامل ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ کی ٹیم کے ٹور مینیجر کے طور پر بھی خدمات دیں، بشمول 1994-95 کی ایشز سیریز۔
خراجِ تحسین
مائیک ایتھرٹن نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسمتھ کا پرسکون مزاج دباؤ کے وقت ایک بہترین علاج تھا۔ جیفری بائیکاٹ نے بھی انہیں ایک اچھا انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی کسی پر بوجھ نہیں بنے اور ہمیشہ کھلاڑیوں کو آزادی کے ساتھ کھیلنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ایڈگباسٹن میں وارکشائر اور گلیمورگن کے میچ سے قبل ان کے لیے خاموشی اختیار کی گئی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ای سی بی کے چیئر رچرڈ تھامسن نے کہا کہ کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔
