IPL 2026: کیا ایم ایس دھونی سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف واپسی کریں گے؟
آئی پی ایل 2026: سی ایس کے کے لیے دھونی کی ممکنہ واپسی
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن اپنے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے اور چنئی سپر کنگز (CSK) کے مداح اپنے پسندیدہ کپتان ایم ایس دھونی کی واپسی کے منتظر ہیں۔ دھونی، جو سیزن کے آغاز سے قبل انجری کا شکار ہو گئے تھے، اب تک 12 میچوں سے باہر ہیں۔ اگرچہ وہ صحت یاب ہو چکے ہیں، لیکن ٹیم کے متوازن امتزاج کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں اب تک آرام دیا گیا ہے۔
آر اشون کی رائے
بھارتی اسپنر آر اشون، جو دھونی کے ساتھ طویل عرصے تک کھیل چکے ہیں، کا خیال ہے کہ دھونی کی واپسی کا وقت آ چکا ہے۔ اشون نے حال ہی میں تبصرہ کیا کہ ایم ایس دھونی اب بھی تیز گیند بازوں کے خلاف ایک بہترین بلے باز ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر میدان میں اتریں گے۔ اشون کے مطابق، دھونی گزشتہ چند میچوں سے کھیلنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
چنئی سپر کنگز کی صورتحال
چنئی سپر کنگز کے لیے پلے آف کی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے باقی ماندہ دو میچ انتہائی اہم ہیں۔ ٹیم کے پاس 12 میچوں میں 12 پوائنٹس ہیں، اور اگر وہ اپنے اگلے دونوں میچ جیت لیتے ہیں تو اگلے مرحلے تک رسائی ممکن ہے۔ ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں حیدرآباد کے خلاف ہونے والا میچ سی ایس کے کا لیگ مرحلے کا آخری ہوم میچ ہوگا، جو اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
گزشتہ میچ کا تجزیہ
حال ہی میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف سی ایس کے کو سات وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ میں مچل مارش کی 90 رنز کی شاندار اننگز نے لکھنؤ کو 188 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دی۔ چنئی کی جانب سے کارتک شرما نے 71 رنز بنائے جبکہ شیوم دوبے نے بھی جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، تاہم وہ ٹیم کو فتح نہ دلا سکے۔
سن رائزرز حیدرآباد کا چیلنج
دوسری جانب سن رائزرز حیدرآباد بھی پلے آف کی دوڑ میں پوری طرح شامل ہے۔ ابھیشک شرما، ٹریوس ہیڈ، ایشان کشن اور ہینرک کلاسن جیسی جارح مزاج بلے بازوں کی موجودگی میں حیدرآباد کسی بھی ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ کپتان پیٹ کمنز کی قیادت میں حیدرآباد کی ٹیم اپنی بولنگ لائن اپ کے ساتھ سی ایس کے کو قابو کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
نتیجہ
چنئی سپر کنگز کا انحصار اب سنجو سیمسن جیسے بلے بازوں پر ہوگا جو ٹاپ آرڈر میں حیدرآباد کے بولرز کا سامنا کریں گے۔ دھونی کی واپسی نہ صرف ٹیم کے مڈل آرڈر کو مضبوط کرے گی بلکہ پوری ٹیم کے مورال کو بھی بلند کرے گی۔ کیا ‘کپتان کول’ کی واپسی چنئی کو پلے آف تک پہنچانے میں کامیاب ہو گی؟ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
