Cricket News

مشفق الرحیم کا ون ڈے کرکٹ میں واپسی سے انکار، 2027 ورلڈ کپ کے حوالے سے بڑا فیصلہ

Aditya Kulkarni · · 1 min read

Mushfiqur Rahim Shakib al Hasan for Bangladesh. Image Credits: AFP

مشفق الرحیم کا ون ڈے انٹرنیشنل میں واپسی سے دو ٹوک انکار

بنگلہ دیش کرکٹ کے لیجنڈری وکٹ کیپر بلے باز مشفق الرحیم نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ ون ڈے کرکٹ سے اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یاد رہے کہ 39 سالہ تجربہ کار کرکٹر نے مارچ 2025 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے اختتام کے فوری بعد 50 اوورز کے فارمیٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ حال ہی میں جب بنگلہ دیش نے جنوبی افریقہ میں ہونے والے 2027 آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے اپنی حکمت عملی پر کام شروع کیا، تو ماہرین اور شائقین کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ مشفق الرحیم کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

بنگلہ دیشی ٹیم کا مستقبل اور مشفق کا موقف

جمعہ 15 مئی کو سلہٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشفق الرحیم نے انکشاف کیا کہ ان سے ون ڈے ٹیم میں واپسی کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے بہت ہی پیشہ ورانہ انداز میں اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی ٹیم اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے مزید ان کی ون ڈے خدمات کی ضرورت نہیں ہے۔

مشفق الرحیم کا کہنا تھا: “ہاں، مجھے ون ڈے کرکٹ میں واپسی کے حوالے سے پیغام موصول ہوا تھا، لیکن میرا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم اب ایک ایسے مرحلے پر ہے اور مستقبل میں بھی اس مقام پر ہوگی کہ میری خدمات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔” ان کا یہ بیان ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں پر ان کے بھرپور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کے لیے جنون اور آسٹریلیا کا خواب

بنگلہ دیش کے لیے 101 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے مشفق الرحیم اب بھی طویل ترین فارمیٹ کے لیے اتنے ہی پرجوش ہیں جتنے وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے اس وقت تک ریٹائر نہیں ہوں گے جب تک وہ اپنے اندر وہی پرانا جذبہ اور تڑپ محسوس کرتے رہیں گے۔

رواں سال بنگلہ دیش کے دورہ آسٹریلیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مشفق نے اسے اپنا ایک بڑا خواب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: “آسٹریلیا جا کر ان کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلنا میرے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا خواب رہا ہے۔” مشفق کی نظریں اب آسٹریلوی پچوں پر اپنی تکنیک اور تجربے کو آزمانے پر لگی ہوئی ہیں۔

ناہید رانا کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی تعریف

مشفق الرحیم نے اپنے ساتھی کھلاڑی اور نوجوان فاسٹ بولر ناہید رانا کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ ناہید رانا نے حال ہی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا، جس کے صلے میں انہیں اپریل 2026 کے لیے آئی سی سی ‘پلیئر آف دی منتھ’ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

نوجوان بولر کے کام کرنے کے طریقے (Work Ethic) پر بات کرتے ہوئے مشفق نے کہا: “مجھے رانا کی ترقی دیکھ کر کبھی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میں نے اس کی محنت کو قریب سے دیکھا ہے۔ اس کی خوراک، پینے کی عادات اور کسی خاص بلے باز کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کا انداز ایک بہت ہی مثبت علامت ہے۔ اگر کوئی نوجوان کھلاڑی اس طرح کی لگن نہیں دکھاتا، تو ٹیم کا ماحول متاثر ہوتا ہے، لیکن رانا جیسے کھلاڑی ٹیم کے لیے سرمایہ ہیں۔”

مشفق الرحیم کا یادگار ون ڈے کیریئر

مشفق الرحیم نے اپنے ون ڈے کیریئر میں مجموعی طور پر 274 میچز کھیلے۔ اس دوران انہوں نے 36.42 کی اوسط سے 7,795 رنز اسکور کیے۔ وہ بنگلہ دیش کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی اور مشکل حالات میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت نے انہیں بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں ریکارڈ ساز کارکردگی

ٹیسٹ کرکٹ میں بھی مشفق الرحیم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہ 186 اننگز میں 38.84 کی اوسط سے 6,603 رنز بنا کر بنگلہ دیش کے کامیاب ترین ٹیسٹ بلے باز ہیں۔ ان کے ریکارڈ میں 13 سنچریاں اور 29 نصف سنچریاں شامل ہیں، جو ان کے دو دہائیوں پر محیط طویل اور شاندار سفر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

حال ہی میں میرپور میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں مشفق نے 71 رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیلی۔ اس اننگز اور ناہید رانا کی پانچ وکٹوں کی بدولت بنگلہ دیش نے مہمان ٹیم کو 104 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کی۔ اب دونوں ٹیمیں 16 مئی سے سلہٹ میں شروع ہونے والے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں بنگلہ دیش کی نظریں سیریز جیتنے پر مرکوز ہوں گی۔

نتیجہ

مشفق الرحیم کا ون ڈے کرکٹ میں واپسی سے انکار اگرچہ شائقین کے لیے مایوس کن ہو سکتا ہے، لیکن ان کا یہ فیصلہ بنگلہ دیشی کرکٹ میں نسل در نسل تبدیلی (Transition) کے عمل کو تقویت دے گا۔ ان کی توجہ اب ٹیسٹ کرکٹ پر ہے، جہاں وہ مزید ریکارڈز بنانے اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کے لیے تیار ہیں۔