نیتش رانا کا متنازع آؤٹ: سی ایس کے بمقابلہ ڈی سی میچ میں امپائرز کا فیصلہ اور قوانین کی وضاحت
کرکٹ کی دنیا میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں جب امپائرز کے فیصلے یا کھیل کے قوانین کی تشریح پر شائقین اور ماہرین کے درمیان بحث چھڑ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ منگل کی رات چنئی سپر کنگز اور دلی کیپیٹلز کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پیش آیا جب دلی کیپیٹلز کے بلے باز نیتش رانا کا آؤٹ ہونا سوشل میڈیا پر ایک بڑی بحث کا موضوع بن گیا۔ اس میچ میں چنئی سپر کنگز نے اپنی دوسری مسلسل فتح حاصل کرتے ہوئے دلی کیپیٹلز کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی۔ ٹاس جیت کر دلی کیپیٹلز نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن وہ چنئی کے بولرز پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے اور مقررہ 20 اوورز میں صرف 155 رنز سات وکٹوں کے نقصان پر بنا سکے۔ یہ اسکور حریف ٹیم کے لیے ہدف کا تعاقب کرنے میں بہت آسان ثابت ہوا۔
نیتش رانا کا متنازع آؤٹ: کیا ہوا تھا؟
دلی کیپیٹلز کی اننگز کے دسویں اوور کی تیسری گیند پر، جو نور احمد کروا رہے تھے، نیتش رانا نے سویپ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔ فائن لیگ پر کھڑے فیلڈر کارتک شرما نے ایک آسان کیچ پکڑ لیا۔ یہیں سے تنازع کا آغاز ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے اس آؤٹ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں دکھایا گیا تھا کہ جب بلے باز نے شاٹ کھیلا تو بیلز خود بخود گر گئیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ نہ تو بلے اور نہ ہی وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے گلوز کا بیلز سے کوئی رابطہ ہوا تھا۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد، شائقین اس بات پر حیران رہ گئے کہ اس گیند کو ڈیڈ بال کیوں نہیں قرار دیا گیا۔ یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے کرکٹ کے قوانین کے بارے میں بہت سے سوالات کھڑے کر دیے۔
سوشل میڈیا پر بحث اور دوسری ویڈیو کا انکشاف
پہلی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کرکٹ حلقوں میں ایک گرما گرم بحث چھڑ گئی کہ امپائرز کو اس صورتحال میں کیا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ کیا یہ غیر معمولی واقعہ ڈیڈ بال کے زمرے میں آتا تھا؟ شائقین نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، کچھ کا کہنا تھا کہ یہ آؤٹ نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بظاہر کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ تاہم، جلد ہی ایک اور مداح نے ایک دوسری ویڈیو پوسٹ کی جس میں بیلز کو گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، اور اس کے پیچھے ممکنہ وجہ دلی کے میدان میں چلنے والی تیز ہوا کو قرار دیا گیا۔ اس دوسری ویڈیو نے صورتحال کو مزید واضح کیا اور یہ تجویز کیا کہ بیلز کسی بیرونی قوت (ہوا) کی وجہ سے گری تھیں، نہ کہ کسی کھلاڑی کے رابطے کی وجہ سے۔ اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ سنجو سیمسن کا اسٹمپ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، اور بیلز کا گرنا ہوا کا نتیجہ تھا۔
ڈیڈ بال کا قانون: ایم سی سی کے قوانین کیا کہتے ہیں؟
اس واقعے نے کرکٹ کے قوانین، خاص طور پر ڈیڈ بال کے قانون کی گہرائی میں جانے پر مجبور کیا۔ ایم سی سی (میریلیبون کرکٹ کلب) کے قانون 20 کے مطابق، بال کو مختلف حالات میں ڈیڈ قرار دیا جا سکتا ہے۔ پہلا اہم شرط ‘سیٹلڈ بال’ ہے، جب ایک فیلڈر، وکٹ کیپر یا بولر شاٹ کھیلنے یا چھوڑنے کے بعد گیند کو اپنے ہاتھوں میں ‘سیٹل’ کر لیتا ہے اور کھیل کی حالت مکمل ہو جاتی ہے۔ دوسری صورت ‘امپائر کے فیصلے’ کے تحت آتی ہے، جب بلے باز آواز یا اچانک حرکت، چوٹوں، یا کھیل میں شائقین کی مداخلت کی وجہ سے کھیل کو روک دیتا ہے تو بال ڈیڈ ہو جاتی ہے۔
اس خاص واقعے میں، چونکہ بیلز خود بخود، غیر متوقع طور پر گری تھیں، اور اس میں کسی کھلاڑی کا براہ راست رابطہ شامل نہیں تھا، تو بلے باز کا آؤٹ جائز قرار دیا گیا۔ قانون کے مطابق، اگر بیلز ہوا یا کسی بیرونی وجہ سے گریں اور بلے باز اس وقت آؤٹ ہونے کی کسی اور شرط کو پورا کر رہا ہو (جیسے کہ کیچ آؤٹ)، تو وہ آؤٹ مانا جائے گا۔ لہذا، اس صورتحال میں گیند کو ڈیڈ بال قرار نہیں دیا جا سکتا تھا، اور نیتش رانا کا آؤٹ ایک قانونی فیصلہ تھا۔ امپائرز نے قوانین کی درست تشریح کی اور اپنا فیصلہ برقرار رکھا، جس پر کچھ شائقین کو حیرانی ہوئی لیکن قوانین کے مطابق یہ درست تھا۔
چنئی نے اہم پوائنٹس حاصل کیے
156 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے، مہمان ٹیم چنئی سپر کنگز نے اپنی اننگز کا آغاز کیا لیکن جلد ہی اپنے کپتان رتوراج گائیکواڑ کو 6 رنز پر کھو دیا۔ سمیر رضوی نے رتوراج کا کیچ پکڑا اور لونگی نگیڈی کو، جو ٹیم میں واپسی کر رہے تھے، اپنی پہلی وکٹ دلائی۔ اس کے بعد، ارویل پٹیل 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، انہیں اکشر پٹیل کی گیند پر کے ایل راہول نے شاندار طریقے سے اسٹمپ کیا۔ اس وقت چنئی سپر کنگز 45 رنز پر دو وکٹیں گنوا چکی تھی اور ساتویں اوور میں دباؤ میں تھی۔
تاہم، اس کے بعد کارتک شرما اور سنجو سیمسن نے کریز پر آ کر صورتحال کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی مزید وکٹ نہیں گرنے دی اور اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ شرما نے فاتحانہ باؤنڈری لگائی اور 31 گیندوں پر 41 رنز بنائے، جس میں چار چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ دوسری جانب، سنجو سیمسن ایک شاندار اننگز کھیل کر 52 گیندوں پر 87 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، ان کی اننگز میں سات چوکے اور چھ چھکے شامل تھے، جس نے ٹیم کو بآسانی ہدف تک پہنچا دیا۔ اس فتح کے ساتھ چنئی نے دو اہم پوائنٹس حاصل کیے اور اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ یہ میچ نہ صرف نیتش رانا کے متنازع آؤٹ کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا بلکہ سنجو سیمسن کی عمدہ کارکردگی اور چنئی کی ایک اور کامیاب رن چیز کی بدولت بھی یہ میچ کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں تازہ رہے گا۔
