Cricket News

پاکستان کرکٹ: نئے ٹورنامنٹ کے لیے 28 رکنی اسکواڈ کا اعلان، بابر اور شاہین شامل نہیں

Aditya Kulkarni · · 1 min read

پاکستان کرکٹ میں تبدیلیوں کا آغاز: 28 رکنی اسکواڈ کا اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آسٹریلیا کے خلاف آئندہ تین ون ڈے میچوں کی ہوم سیریز سے قبل ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ اور انٹرا اسکواڈ ٹورنامنٹ کے لیے 28 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ٹیم کی تیاریوں کو بہتر بنانے اور نئے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

کیمپ کی تفصیلات اور مقاصد

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ سات روزہ وائٹ بال کیمپ 15 مئی سے 21 مئی تک لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) میں منعقد کیا جائے گا۔ اس کیمپ کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے مضبوط حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ کیمپ کے دوران شدید پریکٹس سیشنز کے ساتھ ساتھ انٹرا اسکواڈ ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا جائے گا، جہاں کھلاڑی اپنی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کریں گے۔

بابر اعظم اور شاہین آفریدی کی عدم موجودگی

اس اسکواڈ میں سب سے زیادہ توجہ طلب بات تجربہ کار بلے باز بابر اعظم اور فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کی عدم موجودگی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ٹیم سے ڈراپ ہو گئے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی اس وقت بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مصروف ہیں، جو 20 مئی کو ختم ہوگی۔ اسی طرح سلمان علی آغا اور محمد رضوان بھی اسی وجہ سے اس کیمپ کا حصہ نہیں بن سکے۔ امکان ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے بعد ان کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کر لیا جائے گا۔

نئے ٹیلنٹ کو موقع

پاکستان کرکٹ بورڈ کی نظریں مستقبل کے ورلڈ کپ 2027 پر مرکوز ہیں۔ اسی تناظر میں، کئی نوجوان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو 28 رکنی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں انڈر-19 ورلڈ کپ کے اسٹارز عبدالحبان اور علی رضا سمیت معاذ صداقت، خواجہ نافع، حنین شاہ اور فیصل اکرم جیسے نام شامل ہیں۔ پی سی بی کا مقصد اپنی کور ٹیم میں نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو شامل کر کے ٹیم کو مزید متحرک بنانا ہے۔

کیمپ میں شامل کھلاڑیوں کی مکمل فہرست

این سی اے میں ہونے والے انٹرا اسکواڈ ٹورنامنٹ کے لیے جن 28 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے ان کے نام درج ذیل ہیں:

  • عامر جمال، عبدل صمد، عبدل سبحان، ابرار احمد، احمد دانیال، عاکف جاوید، علی رضا، عرفات منہاس، فیصل اکرم، فخر زمان، حیدر علی، حمزہ نذر، حارث رؤف، حنین شاہ، خواجہ محمد نافع، معاذ صداقت، مہران ممتاز، محمد فائق، محمد حسنین، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، سعد بیگ، سعد مسعود، صاحبزادہ فرحان، شاداب خان، شمیل حسین، سفیان مقیم اور عثمان خان۔

کوچنگ کا کردار اور نگرانی

کھلاڑیوں کی کارکردگی کی نگرانی پاکستان کے وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کریں گے۔ مائیک ہیسن اور این سی اے کا کوچنگ اسٹاف مشترکہ طور پر کھلاڑیوں کے فٹنس اور تکنیکی مہارتوں پر کام کرے گا۔ اس عمل سے سلیکٹرز کو بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مدد ملے گی تاکہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف پاکستان کا کمبی نیشن متوازن رہ سکے۔

مستقبل کی حکمت عملی

یہ کیمپ نہ صرف آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ہے بلکہ یہ طویل المدتی منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو سینئرز کے ساتھ تربیت کا موقع ملنے سے ان کا اعتماد بڑھے گا، جس سے پاکستان کے وائٹ بال سیٹ اپ کو ایک نئی سمت ملے گی۔ شائقین کرکٹ اس نئی حکمت عملی کے نتائج دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں، کیونکہ ٹیم اب اپنی توجہ خالصتاً ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں پر مرکوز کر رہی ہے۔