پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: کیا محمد رضوان انضمام الحق جیسا معجزہ دہرا پائیں گے؟
پاکستان اور بنگلہ دیش: سلہیٹ ٹیسٹ کا فیصلہ کن موڑ
سلہیٹ میں جاری پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ ایک انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ چار دن کے سخت مقابلے کے بعد، پانچواں دن دونوں ٹیموں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ بنگلہ دیش اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ پاکستان کی نظریں ایک یادگار فتح پر جمی ہوئی ہیں۔
محمد رضوان: پاکستان کی آخری امید
پاکستان اپنی دوسری اننگز میں 437 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کا تعاقب کر رہا ہے اور چوتھے دن کے اختتام پر پاکستان کا اسکور 316 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ تھا۔ آخری دن جیت کے لیے 121 رنز درکار ہیں اور وکٹ پر محمد رضوان اور ساجد خان موجود ہیں۔ محمد رضوان اس وقت 75 رنز کے ساتھ ناقابل شکست ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر اس مشکل ہدف کو عبور کریں۔
چوتھے دن بنگلہ دیشی بولرز نے رضوان پر شدید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ لٹن داس کی جانب سے جملے بازی ہو یا ناہید رانا کا جارحانہ رویہ، میزبان ٹیم نے رضوان کی توجہ ہٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاہم، رضوان نے اپنی تکنیک اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف وکٹ پر قیام کیا بلکہ پاکستان کی امیدوں کو بھی زندہ رکھا۔
انضمام الحق کا 2003 والا تاریخی کارنامہ
محمد رضوان کی موجودہ صورتحال کرکٹ شائقین کو 2003 کی یاد دلاتی ہے جب ملتان ٹیسٹ میں انضمام الحق نے بنگلہ دیش کے خلاف ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔ اس وقت پاکستان کو جیت کے لیے 261 رنز درکار تھے اور ٹیم 148 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر شدید بحران کا شکار تھی۔
تب انضمام الحق نے اپنی زندگی کی یادگار ترین اننگز کھیلی۔ 53 رنز سے دن کا آغاز کرنے والے انضمام نے 138 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور پاکستان کو ایک وکٹ سے یادگار فتح دلائی۔ وہ مقابلہ آج بھی پاکستانی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے، اور آج رضوان سے بھی اسی طرح کے کمال کی توقع کی جا رہی ہے۔
کیا رضوان انضمام کی تاریخ دہرا سکیں گے؟
دو دہائیاں قبل انضمام الحق کی اس اننگز نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں کلین سویپ مکمل کرنے میں مدد کی تھی۔ آج صورتحال مختلف ہے، جہاں پاکستان کو 0-2 کی عبرتناک شکست سے بچنے کے لیے ایک معجزاتی کارکردگی درکار ہے۔ سلہیٹ کی پچ پر آخری دن کا کھیل انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ اگر محمد رضوان اپنی فارم برقرار رکھتے ہیں اور نچلے آرڈر کے بلے بازوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرتے ہیں، تو پاکستان یقیناً اس تاریخی تعاقب کو مکمل کر سکتا ہے۔
کرکٹ کے میدانوں میں ایسے لمحات بہت کم آتے ہیں جہاں کوئی بلے باز اکیلے اپنے دم پر میچ کا پانسہ پلٹ دے۔ محمد رضوان نے ماضی میں کئی بار ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ میں کھیلنے کے ماہر ہیں۔ سلہیٹ میں رضوان کے بلے سے نکلنے والی ہر باؤنڈری پاکستان کو فتح کے قریب لے جائے گی، جبکہ بنگلہ دیشی بولرز اپنی پوری طاقت سے آخری تین وکٹیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
آج کا دن پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔ کیا رضوان، انضمام الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک بار پھر بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کو سرخرو کر پائیں گے؟ اس کا جواب ہمیں چند گھنٹوں میں مل جائے گا۔ کرکٹ شائقین کی نظریں سلہیٹ کے اسٹیڈیم پر مرکوز ہیں جہاں تاریخ رقم ہونے کی پوری توقع ہے۔
