Latest Cricket News

پیٹ کمنز کا ایشان کشن کی کپتانی پر بڑا اعتراف: آئی پی ایل 2026 میں سن رائزرز حیدرآباد کی کامیابی کی کہانی

Riya Sen · · 1 min read

سن رائزرز حیدرآباد کی پلے آف میں رسائی اور کپتانی کا شاندار سفر

آئی پی ایل 2026 کے سنسنی خیز مقابلے اپنے اختتامی مراحل کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور سن رائزرز حیدرآباد (SRH) نے چنئی سپر کنگز کے خلاف چنئی میں حاصل ہونے والی شاندار فتح کے بعد پلے آف میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ اس کامیابی کے پس منظر میں جہاں کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی اہم رہی، وہی ٹیم کی قیادت کی منتقلی اور اسپلٹ کیپٹنسی (تقسیم شدہ کپتانی) کا بہترین انتظام بھی ایک کلیدی عنصر ثابت ہوا۔

آسٹریلیا اور سن رائزرز حیدرآباد کے باقاعدہ کپتان پیٹ کمنز نے حال ہی میں ٹیم مالکان کے کردار اور نوجوان ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن کی کپتانی کی صلاحیتوں پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کس طرح سیزن کے آغاز میں ان کی عدم موجودگی کے دوران ایشان کشن نے ٹیم کی باگ ڈور سنبھالی اور کس طرح انہوں نے نوجوان کپتان کے کام میں مداخلت کرنے کے بجائے انہیں مکمل آزادی فراہم کی۔

پیٹ کمنز کی انجری اور میدان میں واپسی کا طویل سفر

پیٹ کمنز کے لیے گزشتہ ایک سال کافی مشکل رہا ہے۔ وہ گزشتہ سال جولائی میں کمر کے نچلے حصے کی تکلیف (lower back lumbar stress injury) کا شکار ہو گئے تھے۔ اس سنگین چوٹ کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک کرکٹ کے میدان سے دور رہنے پر مجبور ہوئے۔ سال 2025 کے بقیہ حصے میں وہ بمشکل ہی کوئی کرکٹ کھیل پائے اور ان کی شرکت صرف ایک میچ تک محدود رہی۔

اگرچہ کمنز نے گزشتہ سال دسمبر میں انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز کا تیسرا ٹیسٹ میچ کھیلا، لیکن وہ بقیہ چار ٹیسٹ میچوں اور تمام محدود اوورز کے مقابلوں سے باہر رہے۔ یہاں تک کہ یہ انجری اتنی شدید تھی کہ وہ ہندوستان اور سری لنکا میں کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کر سکے۔ جب وہ آئی پی ایل کے لیے سن رائزرز حیدرآباد کے اسکواڈ میں شامل ہوئے، تو وہ اپنی فٹنس بحال کرنے کے عمل سے گزر رہے تھے اور ان کا شیڈول صرف ٹورنامنٹ کے دوسرے ہاف میں کھیلنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کمنز موجودہ سیزن میں اب تک حیدرآباد کے 13 میچوں میں سے صرف 6 میچ کھیل پائے ہیں، جبکہ پہلے ہاف میں ٹیم کی قیادت ایشان کشن کے سپرد تھی۔

ایشان کشن کی بطور کپتان نامزدگی کی اصل وجہ

ایشان کشن کو عارضی طور پر کپتانی سونپنے کا فیصلہ اچانک یا بغیر کسی ٹھوس وجہ کے نہیں کیا گیا تھا۔ کشن نے گزشتہ سال سید مشتاق علی ٹرافی میں جھارکھنڈ کی قیادت کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی ٹیم کو ٹرافی جتوائی بلکہ وہ اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بھی ثابت ہوئے۔ اس شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ہندوستانی قومی ٹیم میں بھی اپنی جگہ بحال کی تھی۔

جب پیٹ کمنز سے پوچھا گیا کہ کیا ایشان کشن کو قائم مقام کپتان بنانے کے فیصلے میں ان کا کوئی کردار تھا، تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ کمنز نے بتایا: “ہمارے پاس چند بہترین آپشنز موجود تھے، لیکن ایشان کا ڈومیسٹک سیزن بطور کپتان لاجواب رہا تھا۔ جب مجھ سے عارضی کپتانی کے بارے میں رائے مانگی گئی، تو میں نے کہا کہ ایشان ایک بہترین انتخاب ہوں گے، ٹیم کے تمام کھلاڑی انہیں پسند کرتے ہیں۔”

پیٹ کمنز کی غیر مداخلی کی حکمت عملی

نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران این ڈی ٹی وی (NDTV) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پیٹ کمنز نے واضح کیا کہ انہوں نے ایشان کشن کو اپنے انداز میں ٹیم چلانے کی مکمل آزادی دی۔ کمنز کا کہنا تھا: “وہ واقعی شاندار تھے۔ میں نے انہیں اپنے طریقے سے کام کرنے دیا اور ان کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کی۔ البتہ، میں ہمیشہ وہاں موجود تھا اگر انہیں کسی بھی قسم کی مدد یا مشورے کی ضرورت ہوتی۔ وہ جانتے ہیں کہ اچھی کپتانی کیسے کی جاتی ہے، اس لیے میں ان کے راستے سے دور رہا تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں۔”

کمنز نے فرنچائز کے مالکان کی بھی تعریف کی جنہوں نے مشکل وقت میں ٹیم کا بھرپور ساتھ دیا۔ پچھلے سال پلے آف تک رسائی حاصل نہ کرنے کے بعد مالکان کے ردعمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمنز نے کہا: “مالکان کا رویہ بہترین رہا ہے۔ پچھلے سال کے پہلے ہاف میں، ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔ تاہم، آخری تین یا چار میچوں میں ہماری جیت نے ظاہر کیا کہ ہم جس جارحانہ انداز میں کھیلنا چاہتے تھے، وہ درست سمت میں تھا۔ ہم نے اس سیزن کا آغاز یہ جانتے ہوئے کیا کہ پچھلا سیزن اتنا ہی برا تھا جتنا ہم کھیل سکتے تھے، لیکن اب چند نئے کھلاڑیوں نے بھی اس جارحانہ انداز کو اپنا لیا ہے جس نے ہمیں کامیابی دلائی ہے۔”

اعداد و شمار کا جائزہ: کشن بمقابلہ کمنز کپتانی

تقسیم شدہ کپتانی کے اس تجربے نے سن رائزرز حیدرآباد کی مہم کو نقصان پہنچانے کے بجائے مزید مضبوط کیا۔ سیزن کا آغاز حیدرآباد کے لیے کافی مشکل تھا، جہاں ایشان کشن کی قیادت میں ٹیم کو پہلے چار میچوں میں سے تین میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن کشن نے شاندار واپسی کرتے ہوئے ٹیم کو مسلسل تین فتوحات دلائیں۔

جب پیٹ کمنز فٹ ہو کر اسکواڈ میں شامل ہوئے، تو انہوں نے اس جیت کے سلسلے کو مزید دو میچوں تک بڑھا دیا۔ اس کے بعد ٹیم کی کارکردگی میں کچھ اتار چڑھاؤ آیا جہاں وہ متبادل طور پر میچ ہارتی اور جیتی رہی۔ اگر اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو:

  • ایشان کشن کی قیادت میں: سن رائزرز حیدرآباد نے 7 میچ کھیلے جن میں سے انہوں نے 4 میں کامیابی حاصل کی اور 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
  • پیٹ کمنز کی قیادت میں: ٹیم نے اب تک 6 میچ کھیلے ہیں اور ان میں سے 4 میچوں میں فتح حاصل کی ہے جبکہ 2 میں شکست ہوئی۔

مجموعی طور پر دونوں کپتانوں کی قیادت میں ٹیم نے اب تک 13 میچوں میں سے 8 فتوحات حاصل کی ہیں، جو ٹیم کی بہترین ہم آہنگی اور مضبوط منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور فائنل کی راہ

اگرچہ سن رائزرز حیدرآباد نے پلے آف میں اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے، لیکن ان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اگر وہ ٹاپ ٹو (پہلی دو پوزیشنز) میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو انہیں فائنل میں پہنچنے کے دو مواقع حاصل ہوں گے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پلے آف کے اہم اور دباؤ والے میچوں میں پیٹ کمنز کی تجربہ کار قیادت اور ایشان کشن کا جارحانہ مزاج سن رائزرز حیدرآباد کو آئی پی ایل 2026 کی چمکتی ہوئی ٹرافی دلانے میں کتنا مددگار ثابت ہوتا ہے۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.