[CRK]
پشاور زلمی کی فتح کا تسلسل: ملتان سلطانز کو دھول چٹائی
پاکستان سپر لیگ کے 22ویں میچ میں پشاور زلمی نے اپنی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے ملتان سلطانز کے خلاف ایک شاندار جیت حاصل کی۔ زلمی نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 196 رنز بنائے، جس کے جواب میں ملتان سلطانز کی ٹیم 8 وکٹوں کے نقصان پر 172 رنز ہی بنا سکی اور 24 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جیت کے ساتھ ہی پشاور زلمی نے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پہلی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔
کسل مینڈس کی شاندار بیٹنگ اور زلمی کا مضبوط آغاز
پشاور زلمی کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز انتہائی جارحانہ رہا۔ محمد حارث نے اپنی فارم واپس پاتے ہوئے میدان میں آتے ہی جارحیت دکھائی۔ انہوں نے میچ کی پہلی دو گیندوں پر چوکے لگا کر ملتان کے باؤلرز کو دباؤ میں لا دیا۔ خاص طور پر محمد نواز کے خلاف حارث کی بیٹنگ قابل دید تھی، جنہوں نے ان کے دوسرے اوور میں تین چھکے جڑ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ اگرچہ حارث پانچویں اوور میں آؤٹ ہو گئے، لیکن انہوں نے محض 17 گیندوں پر 38 رنز بنا کر ٹیم کو ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اس کے بعد اسٹیج پر کسل مینڈس آئے، جن کی فارم اس وقت عروج پر ہے۔ مینڈس نے نہایت ذمہ داری اور جارحیت کے ساتھ بیٹنگ کی اور 40 گیندوں پر 68 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ انہوں نے عرفات منہاس کے آخری اوور میں دو چھکے لگا کر رنز کی رفتار کو بڑھایا اور محمد وسیم کے خلاف تین چوکے لگا کر اپنی تیسری نصف سنچری مکمل کی۔
مینڈس کو فرحان یوسف کا بھرپور ساتھ ملا، دونوں کے درمیان 63 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی۔ اس کے علاوہ مائیکل بریس ویل اور افتخار احمد نے بھی مختصر لیکن مؤثر اننگز کھیل کر ٹیم کے مجموعی اسکور کو 196 رنز تک پہنچانے میں مدد کی۔ ملتان سلطانز کی جانب سے اسماعیل نے 22 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں، لیکن وہ زلمی کے onslaught کو روکنے میں ناکام رہے۔
ملتان سلطانز کی جدوجہد اور سفیان مقیم کا جادو
197 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ملتان سلطانز کی شروعات مستحکم رہی۔ جوش فلپ اور اسٹیون سمتھ نے پہلے دس اوورز میں رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔ تاہم، افتخار احمد نے خطرناک صاحبزادہ فرحان کو محض 17 رنز پر آؤٹ کر کے سلطانز کو پہلا بڑا جھٹکا دیا۔
جیسے جیسے کھیل آگے بڑھا، سفیان مقیم نے اپنی باؤلنگ سے ملتان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ مقیم نے 30 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں اور سلطانز کی اننگز میں وقفات پیدا کیے۔ ملتان کے پاس کسل مینڈس جیسا کوئی کھلاڑی نہیں تھا جو پوری اننگز کو یکجا رکھ سکے، جس کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے وکٹیں گنواتے رہے۔
شان مسعود کی کوششیں اور بابر اعظم کی کپتانی حکمت عملی
میچ کے ایک مرحلے پر ایسا لگا کہ ملتان سلطانز جیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کپتان ایشٹن ٹرنر اور شان مسعود کی تیز رفتار بیٹنگ نے زلمی کو پریشان کر دیا۔ خاص طور پر شان مسعود نے عامر جمال کے ایک اوور میں 21 رنز بنا کر میچ کا پانسہ پلٹنے کی کوشش کی۔ مسعود نے 19 گیندوں پر 35 رنز بنائے اور سلطانز کو جیت کے قریب پہنچا دیا۔
لیکن یہاں بابر اعظم کی کپتانی کی حکمت عملی کام آئی۔ انہوں نے تجربہ کار افتخار احمد کو گیند تھمائی، جنہوں نے اپنی ‘گولڈن آرم’ کا استعمال کرتے ہوئے شان مسعود کو ایک غلط شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا اور انہیں ڈیپ کور پر کیچ آؤٹ کروا دیا۔ مسعود کی وکٹ گرتے ہی ملتان کی مزاحمت تقریباً ختم ہو گئی۔
ناہید رانا کا تباہ کن سپیل اور اختتامی لمحات
میچ کا فیصلہ کن مرحلہ آخری اوورز میں آیا، جہاں ناہید رانا نے اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے ملتان کے کھلاڑیوں کو بے بس کر دیا۔ ناہید نے 147 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گیندیں پھینکیں اور 17ویں اور 19ویں اوور میں صرف 8 رنز دیے، ساتھ ہی دو اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔
آخری پانچ اوورز میں ملتان سلطانز صرف 26 رنز بنا سکے، جس نے پشاور زلمی کی 24 رنز سے فتح کو یقینی بنا دیا۔ یہ جیت زلمی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف ٹاپ آف دی ٹیبل پوزیشن برقرار رکھی بلکہ اپنی باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں محاذوں پر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔
- پشاور زلمی: 196/6 (کسل مینڈس 68، محمد حارث 38)
- ملتان سلطانز: 172/8 (شان مسعود 35، سفیان مقیم 3/30)
- نتیجہ: پشاور زلمی 24 رنز سے فاتح