ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹر احمد شہزاد کہتے ہیں کہ پی ایس ایل میں پانچ سالوں سے دہلی ڈیئر ڈیولز یا ممبئی انڈینز کی طرح خواتین کی ٹیماں نہیں ہیں مگر خواتین کے خلاف میچ دھوم دھام سے کھیلے جاتے ہیں یہ ایک کھیل نہیں ہے۔ کرکٹ ایک بہتر گھر کی ضرورت ہے۔ اس کی طرف سے پی ایس ایل کرکٹ کو ایک اچھی دھارے سے چلاتا رہے کہ میں پاکستان ڈیپارٹمنٹ آف سروسس نے کھیل کے ساتھ میری سرگرمی کے ساتھ تعلق نہیں رکھا ہونا چاہیے۔ ہم کرکٹ میں نچوڑ کر لینے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، ہمیں زیادہ تر فخر کرنا ہو گا۔ وہ ہم سے زیادہ کوشاں ہیں اور کرکٹ میں ان کا اثر بے حد ہوگا۔،
شاہزاد کا یہ کھیل سے متعلق کیا ہے بولی ہے اور اس کے بعد شاہزاد کو کرکٹ کی دنیا سے نکل جانے کی پھرتیش ہوگئی ہے۔ اس لیے وہ کرکٹ کے بارے میں مزید بات نہیں کرے گا۔
جانیں میں بکایا ہوسکتا ہے نا
پی ایس ایل کرکٹ کے حوالے سے اپنے تبصرے کے جواب میں شاہزاد نے کہا کہ اسکے لیے جانیں میں بکایا ہوسکتا ہے کہ کرکٹ کی بنیاد پر ہی ہم کرکٹ کو فخر کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر راہے ہیں، ہم ان لوگوں کے ساتھ شریک رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں جس سے نہیں ہوا۔
وہ اپنے کھیل کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ ہم ان کے ساتھ شریک ہیں، ہم ان کی ہمت ہیں اور ان سے ہیں
انھیں یہ سوچنے کی کوشش کرنا ہوگی کہ وہ کرکٹ ادارہ کی فخر ہیں
انھیں یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ یہ کھیل ان کا بھی ایک دھارہ کے ساتھ شروع ہوگا ۔ اس لیے ان خلاصہ میں پڑے گا کہ وہ اس پڑاریوں میں شریک ہوگا اور ان کے ہمراہ شریک رہے گا۔
بخشیں والیوں کا ہی ایسا ہی رخ ہوگا
شاہد اور بخارچی نے بتایا کہ ان کی آخری پرفارمنس میں وہ زیادہ تر بھرا کے شریک تھے۔
دونوں آئی سی سی بھی
وہ کہتے ہیں دونوں آئی سی سی میں ان کی آخری پرفارمنس اسی طرح کوہ رہی ہے ،ان کی آخری پرفارمنس میں ان کا ایس ڈی آر بی ایم لیگل وہ نہیں ہو سکتا ۔
ان کا خیال ہے کہ ان کی بھرا کی لائحہ عمل سے دخل دینے کے بدلے اگر وہ اپنے ذاتی بنیادوں کو بطور ڈھانچہ اور بطور ایجنسی کے سامنے لیتے ہیں تو ان کے پاس کرکٹ کا کھلا دروازہ ضرور ہوگا،