Cricket News

ریاستِ رائلز کی خریداری پر تنازع: امریکی کنسورشیم نے مٹال خاندان کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا

Vihaan Clarke · · 1 min read

ریاستِ رائلز کی فرنچائز کی حالیہ خریداری نے نہ صرف آئی پی ایل دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے بلکہ اس عمل کے پیچھے کے چل رہے محرکات پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ حال ہی میں مٹال خاندان اور ادارہ پوناولا نے 15,660 کروڑ روپے کی بھاری رقم دے کر رائلٹی ٹیم حاصل کر لی، لیکن اس ڈیل کے بعد ایک امریکی کنسورشیم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں شفاف عمل سے محروم رکھا گیا۔

امریکی کنسورشیم کی مایوسی

امریکہ میں مقیم کاروباری شخصیت کل سومانی کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے ریاستِ رائلز خریدنے کی کوشش کی، جس میں وال مارٹ کے روب والٹن اور شیلا فورڈ ہیمپ گروپ کے مائیکل ہیمپ بھی شامل تھے۔ اس کنسورشیم نے ایک بیان میں کہا کہ وہ چھ ماہ تک جاری رہنے والے عمل میں ہمیشہ سے سرفہرست بولی لگانے والے تھے، لیکن آخر کار انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

“ہمیں ریاستِ رائلز کے مالک گروپ کا حصہ نہ بننے پر گہری مایوسی ہے، حالانکہ ہم نے اس عمل میں چھ ماہ تک بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور ہر مرحلے پر سب سے آگے تھے۔”

آئی پی ایل کو عالمی سطح پر لے جانے کا منصوبہ

کنسورشیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ لاہور قلندرز، این ایف ایل، ایم ایل بی، ای پی ایل، لا لیگا اور ٹی جی ایل سمیت مختلف بین الاقوامی کھیلوں کے تجربات کی بنیاد پر آئی پی ایل کو مزید عالمی شہرت دینا چاہتے تھے۔

  • انہوں نے ماہرین کے ایک قابلِ احترام گروپ کو اکٹھا کیا تھا۔
  • آئی پی ایل کی بین الاقوامی مارکیٹس میں توسیع پر توجہ تھی۔
  • ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ اور سیلیبریٹی نیٹ ورکس کا وسیع تجربہ موجود تھا۔

مٹال اور پوناولا کو فرنچائز ملنے پر عمل

مٹال خاندان اور ادارہ پوناولا کی 15,660 کروڑ کی ڈیل کے بعد، ریاستِ رائلز کے علاوہ پارل رائلز (ایس اے 20) اور بارباڈوس رائلز (کیریبین پریمیئر لیگ) پر بھی ان کا کنٹرول ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے، 2026 کے آئی پی ایل سیزن سے قبل ہی رائل چیلنجرز بنگلور کو بھی بیرلا گروپ نے حاصل کر لیا تھا، جس سے مالیاتی حرکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

فنڈنگ کے بارے میں افواہوں کا جواب

کچھ رپورٹس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ امریکی کنسورشیم کے پاس فنڈز کی کمی تھی جس کی وجہ سے ڈیل تحلیل ہو گئی، لیکن کل سومانی نے اس کی سخت تردید کی۔

“صحافیوں میں بے بنیاد خبریں پھیلائی گئیں کہ ہمارے گروپ کے پاس فنڈز نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا گروپ مکمل طور پر فنڈڈ تھا، ہم نے تمام دستاویزات جمع کروا دی تھیں، اور ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ فرنچائز کی بورڈ میٹنگ میں ہماری منظوری دی جائے گی۔ بالآخر یہ نہیں ہوا۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تمام عمل کو ایمانداری، پیشہ ورانہ تعلق، اور خلوص کے ساتھ کیا، لیکن افسوس، یہ کافی نہیں تھا۔

کرکٹ دنیا میں اثرات

اس معاملے سے نہ صرف رائلٹی فرنچائز کے مستقبل پر سوال اٹھ رہے ہیں بلکہ آئی پی ایل فرنچائزز کی منتقلی کے شفاف عمل پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ کیا بولی کا عمل واقعی شفاف رہا؟ کیا سب کو برابر کے مواقع دیے گئے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب فرنچائزز کی انتظامیہ سے لینا ہوگا۔

فی الحال، مٹال اور پوناولا کی قیادت میں ریاستِ رائلز کا مستقبل نئی راہوں پر ہے، لیکن اس کے پیچھے چھوڑی گئی مایوسی اور تنازعہ طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

Avatar photo
Vihaan Clarke

Vihaan Clarke is a cricket blogger writing about trending topics, viral cricket moments, and fan discussions. His content is highly engaging.