راجستھان رائلز کی جے پور میں مسلسل ناکامیاں: شین بانڈ کا بولرز کو سخت پیغام
راجستھان رائلز کی جے پور میں مشکلات: کیا ہوم گراؤنڈ اب سازگار نہیں رہا؟
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں راجستھان رائلز (RR) کی کارکردگی میں ایک عجیب و غریب تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جہاں ٹیم نے گوہاٹی میں اپنے تینوں میچز جیت کر سب کو متاثر کیا، وہیں جے پور کے سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں ان کی قسمت روٹھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ جے پور میں کھیلے گئے اب تک کے تینوں میچوں میں رائلز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ٹیم اپنے ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے میں ناکام ہو رہی ہے؟
سابق کرکٹر دیپ داس گپتا کا ماننا ہے کہ اس کی سادہ سی وجہ ‘اچھی کرکٹ نہ کھیلنا’ ہے۔ ان کے بقول، جے پور ایک ہائی اسکورنگ وینیو ہے اور راجستھان رائلز کی بیٹنگ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ‘ٹاپ ہیوی’ ہے، یعنی اوپر کے بلے بازوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ مڈل آرڈر، خاص طور پر دھرو جریل کی فارم میں عدم تسلسل ٹیم کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔
جفرا آرچر کی فارم اور پچ کا کردار
راجستھان رائلز کے اہم ترین ہتھیار، جفرا آرچر، جو سیزن کے آغاز میں بہترین فارم میں تھے، اب جدوجہد کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مچل میک کلیناگھن کے مطابق، جے پور کی پچ پر وہ اچھال اور تیزی میسر نہیں ہے جو گوہاٹی میں تھی، جہاں آرچر اپنی باؤنسرز سے بلے بازوں کو پریشان کر رہے تھے۔
آرچر نے 7 اپریل سے یکم مئی کے درمیان کھیلے گئے آٹھ میچوں میں مسلسل وکٹیں حاصل کیں، لیکن جے پور کے آخری دو میچوں میں ان کے اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ انہوں نے ایک میچ میں 46 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ دوسرے میچ میں 46 رنز کے عوض کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔
گجرات ٹائٹنز کے خلاف آرچر کا مہنگا ترین اوور
ہفتہ کی شام گجرات ٹائٹنز کے خلاف میچ میں جفرا آرچر کا پہلا اوور کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ اس ایک اوور کو مکمل کرنے کے لیے انہیں 11 گیندیں کرانی پڑیں۔ جس میں نو بال، پانچ وائڈز اور پھر مزید دو وائڈز شامل تھیں۔ اس اوور میں راجستھان رائلز کو 18 رنز کا نقصان اٹھانا پڑا، جس نے میچ کا رخ شروع میں ہی بدل دیا۔
مچل میک کلیناگھن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ دن کے وقفے کے بعد واپسی کرنے والے بولرز اکثر اپنی لے (Rhythm) کھو دیتے ہیں، اور آرچر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی گیند بازی میں وہ تیزی اور درستگی نظر نہیں آئی جو ان کی پہچان ہے۔
شین بانڈ کی بولرز پر کڑی تنقید اور مشورے
راجستھان رائلز کے بولنگ کوچ شین بانڈ ٹیم کی حالیہ بولنگ پرفارمنس سے کافی مایوس نظر آئے۔ ٹیم نے لگاتار چار میچوں میں 200 سے زائد رنز کھائے ہیں، جن میں سے وہ صرف ایک جیتنے میں کامیاب رہی۔ بانڈ کا کہنا ہے کہ بولرز کو اب ‘آؤٹ آف دی باکس’ سوچنا ہوگا۔
بانڈ کے مطابق بولرز کو ان پہلوؤں پر کام کرنا ہوگا:
- فیصلہ سازی اور عملدرآمد: بانڈ کا کہنا ہے کہ صرف منصوبہ بندی کافی نہیں، بلکہ میدان میں اس پر درست طریقے سے عمل کرنا ضروری ہے۔
- جدت پسندی: جس طرح بلے بازوں نے اسکوپ، ریورس سوئپ اور اپر کٹ جیسے نئے شاٹس سیکھے ہیں، بولرز کو بھی اپنی مہارت میں اضافہ کرنا ہوگا۔
- تغیرات (Variations): بولرز کو چاہیے کہ وہ رن اپ میں تبدیلی کریں، وکٹ کے دونوں طرف سے بولنگ کریں اور ڈیٹا اینالسٹس کے ساتھ مل کر بلے بازوں کے کمزور زونز پر کام کریں۔
شین بانڈ نے واضح کیا کہ اگر بولرز ہر میچ میں ایک ہی طرح کی گیند بازی کریں گے تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، “یہ بولرز کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ خود کو منوائیں اور سپر اسٹار بنیں، ورنہ مسلسل ایک جیسی کارکردگی انہیں پیچھے دھکیل دے گی۔”
پلے آف کی دوڑ اور راجستھان رائلز کا مستقبل
مسلسل شکستوں کے بعد راجستھان رائلز پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر چلی گئی ہے۔ لیگ مرحلے میں اب ان کے صرف تین میچ باقی ہیں۔ اگرچہ پلے آف کی امیدیں اب بھی برقرار ہیں، لیکن جس طرح فتوحات کا سلسلہ رکا ہے، وہ انتظامیہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر رائلز نے فوری طور پر اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو ان کا انجام بھی 2025 کے سیزن جیسا ہو سکتا ہے جہاں وہ آخری مراحل میں ہمت ہار بیٹھے تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شین بانڈ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے راجستھان کے بولرز اگلے میچوں میں کوئی نئی حکمت عملی اپنا کر اپنی ٹیم کو دوبارہ فتوحات کی راہ پر گامزن کر پاتے ہیں یا نہیں۔
