راجستھان رائلز کی فروخت پر تنازعہ: کل سومانی گروپ کا سنگین الزامات
راجستھان رائلز کی ملکیت کا تنازعہ: کارپوریٹ جنگ شدت اختیار کر گئی
آئی پی ایل کی فرنچائز راجستھان رائلز کی حالیہ فروخت کے گرد ایک بڑی کارپوریٹ جنگ چھڑ گئی ہے۔ کاروباری شخصیت کل سومانی کی قیادت میں ایک طاقتور کنسورشیم نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ انہیں ایک طویل عمل سے گزارنے کے بعد غیر منصفانہ طور پر اس سودے سے الگ کر دیا گیا۔
سودے کا پس منظر اور متل گروپ کی انٹری
مارچ 2026 میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ کل سومانی کا گروپ 1.63 ارب ڈالر (تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے) میں راجستھان رائلز کا اکثریتی حصہ خریدنے کے قریب ہے۔ اس گروپ میں والمارٹ کے روب والٹن اور ڈیٹرائٹ لائنز کے مالک ہیمپ فیملی جیسے بڑے نام شامل تھے۔ تاہم، 3 مئی کو صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی جب یہ اعلان کیا گیا کہ لکشمی متل اور ان کے بیٹے آدتیہ متل کی قیادت میں ایک گروپ نے 1.65 ارب ڈالر (تقریباً 15,660 کروڑ روپے) کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
کل سومانی گروپ کا موقف: ‘ہمیں باہر نکالا گیا’
سومانی گروپ نے میڈیا میں چلنے والی ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے خود سودے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ گروپ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا: “ہمیں گہرا دکھ ہے کہ ہم راجستھان رائلز کی ملکیت کا حصہ نہیں بن سکے۔ ہم نے چھ ماہ تک اس عمل میں قیادت کی اور ہر مرحلے پر سب سے مضبوط بولی دہندہ تھے۔”
سومانی گروپ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے کھیلوں کی دنیا کے تجربہ کار سرمایہ کاروں کو اکٹھا کیا تھا جن کا NFL، MLB اور EPL جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر تجربہ موجود ہے۔ ان کا الزام ہے کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ بورڈ میٹنگ میں ان کے کنسورشیم کی منظوری دی جا رہی ہے، لیکن بعد میں فیصلہ متل گروپ کے حق میں دے دیا گیا۔
شفافیت پر سوالات
سومانی گروپ نے کھلے الفاظ میں اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہمیں نہیں لگتا کہ یہ مقابلہ منصفانہ تھا۔ ایک ایسے عمل میں جس کی اہمیت اتنی زیادہ ہو، شفافیت اور دیانت داری کا ہونا ناگزیر ہے۔”
متل-پونا والا ڈیل کی تفصیلات
اس تنازعہ کے باوجود، لکشمی متل کا گروپ اب اس سودے کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اس شراکت داری میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای او آدر پونا والا بھی شامل ہیں۔ یہ 1.65 ارب ڈالر کی ڈیل صرف آئی پی ایل ٹیم تک محدود نہیں، بلکہ اس میں راجستھان رائلز کا عالمی پورٹ فولیو بھی شامل ہے، جس میں جنوبی افریقہ کی ‘پارل رائلز’ اور کیریبین پریمیئر لیگ کی ‘بارباڈوس رائلز’ بھی شامل ہیں۔
توقع ہے کہ 2026 کی تیسری سہ ماہی تک یہ سودا مکمل ہو جائے گا۔ اس کے بعد ملکیت کا ڈھانچہ کچھ یوں ہوگا:
- متل فیملی: 75 فیصد حصہ
- آدر پونا والا: 18 فیصد حصہ
- موجودہ شیئر ہولڈرز (بشمول منوج باڈلے): 7 فیصد حصہ
یہ تنازعہ آئی پی ایل کی کاروباری دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے کہ کیا اربوں ڈالر کے ان سودوں میں شفافیت کا معیار برقرار رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔ سومانی گروپ نے اب مستقبل کے دیگر مواقع پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن راجستھان رائلز کی یہ فروخت طویل عرصے تک خبروں میں رہنے کا امکان رکھتی ہے۔
