روی چندرن ایشون نے ایم ایس دھونی کے غصے کا راز کھول دیا
روی چندرن ایشون کا انکشاف: ایم ایس دھونی کا غیر متوقع غصہ
کرکٹ کی دنیا میں ایم ایس دھونی کا نام ‘کیپٹن کول’ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میدان کے اندر اور باہر، دھونی اپنے پرسکون اور ٹھنڈے مزاج کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دھونی کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو عام طور پر شائقین کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے؟ حال ہی میں اسپنر روی چندرن ایشون نے ایک دلچسپ قصہ شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے ایم ایس دھونی کے ایک غیر معمولی اور ‘جارحانہ’ ردعمل کا ذکر کیا ہے۔
2009 کا چیلنجر ٹرافی واقعہ
اس واقعے کا ذکر ایشون نے اسٹار اسپورٹس کے ایک حالیہ پروگرام میں کیا۔ یہ بات 2009 کی ہے جب ناگپور میں 15ویں این کے پی سالوے چیلنجر ٹرافی کھیلی جا رہی تھی۔ اس ٹورنامنٹ میں ایشون ‘انڈیا ریڈ’ کی جانب سے کھیل رہے تھے، جبکہ دھونی ‘انڈیا بلیو’ کی قیادت کر رہے تھے۔
ایشون نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ فائنل میچ کے دوران انہوں نے ایم ایس دھونی کی وکٹ حاصل کی، جس پر ایشون نے بہت جوش و خروش سے جشن منایا۔ ایشون کے مطابق، دھونی جیسے بڑے کھلاڑی کو آؤٹ کرنا ان کے لیے اپنے کیریئر کے اس مرحلے پر ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔
دھونی کا ردعمل اور ایشون کی صاف گوئی
ایشون نے بتایا کہ جب انہوں نے وکٹ کا جشن منایا تو دھونی نے غیر متوقع طور پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ دھونی نے ایشون سے پوچھا، ‘سنجیدگی سے؟ اس میں اتنا جشن منانے والی کیا بات ہے؟’ یہ جملہ دھونی کے اس پہلو کو ظاہر کرتا ہے جو بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے۔
ایشون نے بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا، ‘میں نے ان سے کہا کہ آپ کی وکٹ لینا میرا خواب تھا، اگر مجھے آپ کو آؤٹ کرنے کا موقع ملتا ہے، تو مجھے چنئی سپر کنگز (CSK) کی ٹیم میں کھیلنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔’
سی ایس کے کا سفر اور باہمی تعلقات
اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد ایشون کا خواب سچ ثابت ہوا۔ 2010 میں انہیں سی ایس کے نے 12 لاکھ روپے میں خریدا۔ بعد ازاں 2011 میں ان کی قیمت بڑھ کر 3.19 کروڑ روپے ہوگئی۔ یہ صرف ایک واقعہ تھا، لیکن اس کے بعد ایشون اور دھونی کے درمیان ایک مضبوط اور باہمی احترام کا رشتہ قائم ہوا۔
ایشون 2008 سے ہی چنئی کے مقامی کھلاڑی کے طور پر ابھرے اور 2010 سے 2015 کے درمیان سی ایس کے کی کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دھونی کی کپتانی میں ایشون نے دو آئی پی ایل ٹائٹل بھی جیتے، جو دونوں کھلاڑیوں کے درمیان پیشہ ورانہ دوستی کی بہترین مثال ہے۔
نتیجہ
اگرچہ میدان میں مقابلہ سخت تھا، لیکن اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ کرکٹ میں جذبات اور مقصدیت کا ایک گہرا تعلق ہوتا ہے۔ دھونی کا وہ ‘غصہ’ صرف ایک مقابلہ جاتی سوچ کا عکاس تھا، جس نے ایشون جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کو مزید بہتر کرنے کی ترغیب دی۔ آج جب ہم ایشون اور دھونی کے طویل سفر کو دیکھتے ہیں، تو یہ چھوٹے واقعات ان کی عظیم دوستی اور کرکٹ کے سفر کا ایک اہم حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یشا ساگر نے سمیر رضوی تنازعہ پر خاموشی توڑ دی
