آئی پی ایل 2026: ممبئی انڈینز کے ہاتھوں لکھنؤ سپر جائنٹس کی شکست پر رشبھ پنت کا ردعمل
آئی پی ایل 2026: لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے مشکلات کا تسلسل
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ پیر کی رات وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں لکھنؤ کو ممبئی انڈینز (MI) کے ہاتھوں اپنی ساتویں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد لکھنؤ کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے نمبر پر موجود ہے، جس نے ٹیم انتظامیہ اور مداحوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
میچ کا احوال: ایک شاندار آغاز مگر مایوس کن اختتام
میچ کا آغاز ممبئی انڈینز کے کپتان سوریہ کمار یادیو کے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کے بلے بازوں نے ابتدا میں جارحانہ انداز اپنایا۔ نکولس پورن اور مچل مارش نے پاور پلے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ نکولس پورن نے شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 16 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ آٹھ اوورز کے اختتام پر لکھنؤ کا اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 123 رنز تک پہنچ چکا تھا۔
تاہم، یہاں سے ممبئی انڈینز کے گیند بازوں نے شاندار واپسی کی۔ کاربن بوش نے نویں اوور میں دونوں سیٹ بلے بازوں کو آؤٹ کر کے لکھنؤ کی پیش قدمی کو روک دیا۔ اس کے باوجود ایڈن مارکرم (ناٹ آؤٹ 31) اور ہمت سنگھ (ناٹ آؤٹ 40) کی بدولت لکھنؤ نے 228 رنز کا ایک مضبوط ہدف بورڈ پر لگایا۔
رشبھ پنت کی مایوسی اور قسمت کا سوال
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں لکھنؤ کے کپتان رشبھ پنت کافی مایوس دکھائی دیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم کی شروعات بہت اچھی تھی لیکن وہ اس رفتار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ پنت نے کہا، “ہمیں اس آغاز کے بعد مزید 15 سے 20 رنز بنانے چاہیے تھے۔ ممبئی کے گیند بازوں نے اپنی ہوم کنڈیشنز کا بخوبی فائدہ اٹھایا۔”
اپنی ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے پنت نے مزید کہا کہ، “میں اپنے گیند بازوں کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا، انہوں نے محنت کی ہے۔ اس وقت ہمیں کچھ قسمت کی ضرورت ہے جو ہمارے ساتھ نہیں چل رہی۔ اگر ہمیں ٹورنامنٹ میں اپنی امیدیں برقرار رکھنی ہیں تو ہمیں دعاوں اور مزید سخت کوششوں کی ضرورت ہے۔”
ممبئی انڈینز کی شاندار بلے بازی
228 رنز کے تعاقب میں ممبئی انڈینز کے بلے بازوں نے شروع سے ہی لکھنؤ کے بولنگ اٹیک کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ریان ریکیلٹن اور روہت شرما نے لکھنؤ کے گیند بازوں کو کوئی موقع نہیں دیا۔ سوائے پرنس یادو کے، لکھنؤ کا کوئی بھی باؤلر ممبئی کے بلے بازوں کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ممبئی نے یہ ہدف چھ وکٹوں سے آسانی کے ساتھ حاصل کر لیا۔
ٹورنامنٹ کا مستقبل
لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اب پلے آف کی راہ انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ ٹیم کے پاس ہر میچ اب ‘ڈو اور ڈائی’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف لکھنؤ کو اپنی تکنیکی خامیوں کو دور کرنا ہوگا، وہیں دوسری طرف کپتان رشبھ پنت کی یہ خواہش کہ ٹیم کو تھوڑا ‘قسمت کا ساتھ’ ملے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹیم اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
آئی پی ایل 2026 اب اپنے فیصلہ کن مراحل کی جانب گامزن ہے، اور لکھنؤ سپر جائنٹس جیسے بڑے ناموں کا اس طرح باہر ہونا ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا رہا ہے۔ کیا رشبھ پنت اور ان کی ٹیم اگلے میچوں میں واپسی کر پائے گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
