IPL 2026: رشبھ پنت کی مشکلات پر جسٹن لینگر کا اہم بیان
آئی پی ایل 2026 میں رشبھ پنت کا بحران
آئی پی ایل 2026 کا سیزن رشبھ پنت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے پنت نہ صرف اپنی بیٹنگ فارم سے محروم نظر آتے ہیں بلکہ بطور کپتان بھی ٹیم کو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حال ہی میں ممبئی انڈینز کے خلاف شکست کے بعد لکھنؤ کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے پائیدان پر ہے، جس نے ٹیم کے پلے آف میں پہنچنے کے امکانات کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
کپتانی کا بوجھ اور کارکردگی میں گراوٹ
رشبھ پنت کو 27 کروڑ روپے کی بھاری قیمت پر سائن کرنے کے بعد ٹیم کے مالک سنجیو گوئنکا نے ان پر بہت اعتماد کیا تھا، لیکن نو اننگز میں صرف 204 رنز اور 128.30 کا اسٹرائیک ریٹ ان کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنت کی کارکردگی پر کپتانی کا براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ بطور کپتان ان کا اسٹرائیک ریٹ 140.06 رہا ہے، جبکہ بطور کھلاڑی (نان کیپٹن) وہ 151.97 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے رنز بناتے ہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ ذمہ داری کا بوجھ ان کی جارحانہ بیٹنگ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
جسٹن لینگر کا دفاع اور پنت کی قربانی
لکھنؤ سپر جائنٹس کے کوچ جسٹن لینگر نے پنت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی اپنی بہترین فارم سے دور نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک پریکٹس میچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پنت نے کس طرح 30 سے 40 گیندوں پر 95 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی تھی۔ لینگر کے مطابق: “کپتانی ایک مشکل کام ہے، آپ بہت زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں، اور پنت اسے 98 فیصد وقت مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔”
لینگر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پنت کا بیٹنگ آرڈر میں نیچے آنا کوئی مجبوری نہیں بلکہ ایک خود غرضی سے پاک فیصلہ تھا۔ پنت نے نکولس پورن کو اوپر بھیجنے کے لیے اپنی پوزیشن قربان کی، جس کا فائدہ ٹیم کو پورن کی جارحانہ بیٹنگ کی صورت میں ملا۔
کیا پنت واپسی کر پائیں گے؟
اگرچہ لکھنؤ کی ٹیم کا سفر اب مشکل دکھائی دے رہا ہے، لیکن کوچ کا ماننا ہے کہ پنت کو حالات کا سامنا کرنا جاری رکھنا ہوگا۔ ٹیم کا اگلا اہم میچ رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف ایکانہ کرکٹ اسٹیڈیم میں 7 مئی کو شیڈول ہے۔ کرکٹ کے ماہرین اب بھی اس بات پر متفق ہیں کہ رشبھ پنت کی تکنیکی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں ہے، تاہم کپتانی کے دباؤ اور ٹیم کی ناقص کارکردگی کا مجموعی اثر ان کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔
نتیجہ
آئی پی ایل جیسے بڑے پلیٹ فارم پر کپتانی کا دباؤ بڑے سے بڑے کھلاڑی کو متاثر کر سکتا ہے۔ رشبھ پنت، جو اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں، اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہیں جہاں انہیں اپنی قیادت اور ذاتی کارکردگی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ کیا وہ اگلے میچوں میں اپنی کھوئی ہوئی فارم بحال کر سکیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال ٹیم کا مکمل انحصار ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر ہے۔
