[CRK]
رشبھ پنت کا بحران: کیا لکھنؤ سپر جائنٹس کے کپتان اپنی پہچان کھو چکے ہیں؟
آئی پی ایل 2026 کے اس سیزن میں رشبھ پنت کی فارم لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ پنت، جو اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں، اس سیزن میں اب تک اپنے اصل رنگ میں نظر نہیں آئے۔ حال ہی میں راجستھان رائلز کے خلاف میچ میں صرف تین گیندوں پر صفر پر آؤٹ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ چیزیں ٹھیک نہیں چل رہیں۔
کیا پنت ذہنی طور پر الجھے ہوئے ہیں؟
سابق جنوبی افریقی لیجنڈ ڈیل سٹین کا ماننا ہے کہ رشبھ پنت اس وقت ذہنی طور پر ‘ایک سے زیادہ کھیل’ کھیل رہے ہیں۔ سٹین کے مطابق، پنت ایک طرف اپنی فطری جارحانہ بیٹنگ کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف وہ شیرس آئیر اور رجت پاٹیدار جیسے کپتانوں کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس وقت شاندار فارم میں ہیں۔ یہ دوہری سوچ ان کی بیٹنگ میں توازن کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
پنت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سات اننگز میں 132.43 کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف 147 رنز بنانا ان کی صلاحیتوں کے شایانِ شان نہیں ہے۔ سوائے حیدرآباد کے خلاف 68 رنز کی اننگز اور پنجاب کنگز کے خلاف 43 رنز کی قلیل مدتی جارحیت کے، وہ مستقل مزاجی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔
کوچ جسٹن لینگر اور ماہرین کی رائے
LSG کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے پنت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فطری آزادی کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔ تاہم، فاف ڈوپلیسی اور صبا کریم جیسے ماہرین کا نقطہ نظر مختلف ہے۔
- فاف ڈوپلیسی: ان کا کہنا ہے کہ پنت کو ویرات کوہلی سے سیکھنا چاہیے، جو دباؤ میں بھی اپنی ٹیمپو برقرار رکھتے ہیں، سنگلز لیتے ہیں اور بغیر کسی غیر ضروری خطرے کے گیپس میں شاٹس کھیلتے ہیں۔
- صبا کریم: صبا کریم کے مطابق، پنت ابھی تک وائٹ بال کرکٹ (T20 اور ODI) کے لیے اپنا ‘ٹیمپلیٹ’ تلاش نہیں کر پائے ہیں۔ جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا ذہن بالکل واضح ہوتا ہے، لیکن مختصر فارمیٹ میں وہ اپنی حکمت عملی طے کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
کیا واپسی ممکن ہے؟
رشبھ پنت ماضی میں بھی آئی پی ایل میں شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ 2018 کا سیزن ان کے کیریئر کا بہترین رہا جب انہوں نے 684 رنز بنائے۔ ٹیم کو اب اسی پرانے پنت کی ضرورت ہے جو گیند کو میرٹ پر کھیلتا تھا اور دباؤ کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتا تھا۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے یہ سیزن اہم موڑ پر ہے، اور پنت کا فارم میں واپس آنا ٹیم کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ انہیں اپنے ذہن کی الجھنوں کو دور کر کے اپنی فطری بیٹنگ پر توجہ دینی ہوگی۔ کیا وہ اگلے میچوں میں اپنے ناقدین کو خاموش کر سکیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔