ریان پراگ کا متنازعہ رویہ: مداح کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو وائرل
کرکٹ کے میدان سے باہر ریان پراگ کا مایوس کن رویہ
کرکٹ کا کھیل صرف میدان میں کارکردگی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے مداحوں کے ساتھ جڑنے اور ان کے لیے ایک رول ماڈل بننے کا بھی نام ہے۔ بدقسمتی سے، راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ حالیہ دنوں میں اپنی کارکردگی سے زیادہ اپنے متنازعہ رویے کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ آئی پی ایل میں اپنی ٹیم کی مسلسل تیسری شکست کے بعد، سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس نے شائقین کو حیران اور ناراض کر دیا ہے۔
کیا ہوا تھا ہوٹل کے باہر؟
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریان پراگ، جو سیکیورٹی حصار میں موجود ہیں، کے پاس ایک چھوٹا بچہ آٹوگراف لینے کے لیے پہنچتا ہے۔ بچہ بار بار ‘ریان سر، پلیز’ کہہ کر درخواست کر رہا ہے، لیکن ریان پراگ کی جانب سے اسے یکسر نظر انداز کیا گیا۔ حد تو تب ہوگئی جب انہوں نے بچے کو وہاں سے ہٹانے کے لیے ‘ہٹ’ (دور ہو جاؤ) جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے طور پر ان کا رویہ اپنے مداحوں کے تئیں کتنا غیر محتاط ہے۔
مسلسل تنازعات کا شکار ریان پراگ
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ 24 سالہ ریان پراگ کسی تنازعہ میں گھرے ہوں۔ اس سے قبل، ملان پور میں پنجاب کنگز کے خلاف میچ کے دوران انہیں ڈریسنگ روم میں ویپنگ (vaping) کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس غیر پیشہ ورانہ حرکت پر بی سی سی آئی نے نہ صرف ان پر جرمانہ عائد کیا بلکہ انہیں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دیا، جو ان کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔
شائقین کا شدید ردعمل
سوشل میڈیا پر شائقین نے اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایک مداح نے لکھا: ‘مداحوں کے لیے صفر محبت، یہ لوگ کسی کے آئیڈیل کیسے بن سکتے ہیں؟’ ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں اتنی ہی جارحیت میچ کے دوران ہوتی تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا۔ فیلڈنگ کے دوران ساتھی کھلاڑیوں پر چیخنے اور خود ناقص فیلڈنگ کرنے پر بھی انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
میدان میں کارکردگی اور مایوسی
حال ہی میں دہلی کیپٹلز کے خلاف ہونے والے میچ میں راجستھان رائلز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 194 رنز کے ہدف کے تعاقب میں دہلی کے اوپنرز کے سامنے راجستھان کے بولرز اور فیلڈرز بے بس نظر آئے۔ میچ کے بعد ریان پراگ نے خود بھی اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کا معیار گر چکا ہے اور وہ پلے آف میں جانے کی حقدار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ‘اگر ہم کوالیفائی نہیں کرتے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے، کوئی اور نہیں۔’
رول ماڈل ہونے کی ذمہ داری
کرکٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ روہت شرما، ایم ایس دھونی اور دیگر عظیم کھلاڑیوں نے ہمیشہ اپنے مداحوں کے لیے وقت نکالا ہے، چاہے وہ کتنے ہی دباؤ میں کیوں نہ ہوں۔ ایک اسٹار کھلاڑی کی حیثیت سے، ریان پراگ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا رویہ ہی ان کی اصل پہچان بنتا ہے۔ اگر وہ میدان میں اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق میں بہتری نہیں لاتے، تو یہ نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ ان کی ٹیم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریان پراگ اپنی ترجیحات کا تعین کریں اور ایک کھلاڑی کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ مداح ہی کرکٹ کی روح ہیں، اور ان کے ساتھ بدتمیزی کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے۔
