ویرات کوہلی اور روہت شرما پیچھے، سنجے بانگر نے آئی پی ایل کے بہترین اوپنر کا نام بتا دیا
آئی پی ایل میں ایک نیا سورج: سنجے بانگر کا غیر متوقع انتخاب
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے 2026 کے سیزن میں جہاں ریکارڈز بن رہے ہیں اور ٹوٹ رہے ہیں، وہیں کرکٹ کے ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ سابق انڈین کوچ سنجے بانگر نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران آئی پی ایل کے عظیم ترین اوپنرز کی درجہ بندی کی، جس میں انہوں نے ویرات کوہلی اور روہت شرما جیسے بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نوجوان بلے باز ابھیشیک شرما کو پہلے نمبر پر رکھا ہے۔
سنجے بانگر کا استدلال: جدید کرکٹ اور جارحانہ سوچ
ای ایس پی این کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے، سنجے بانگر نے اپنی فہرست میں ابھیشیک شرما کو سر فہرست رکھا، جس کے بعد ویرات کوہلی، شبمن گل اور کے ایل راہول کا نمبر آتا ہے۔ بانگر کے مطابق، یہ انتخاب کسی تعصب پر نہیں بلکہ جدید ٹی 20 کرکٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات پر مبنی ہے۔
بانگر کا کہنا ہے کہ: “میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ٹی 20 کرکٹ ارتقا پذیر ہے، اس کے پیش نظر ابھیشیک شرما کا انتخاب درست سمت ہے۔” ان کے نزدیک ابھیشیک شرما کی خاص بات یہ ہے کہ وہ پاور پلے کے دوران انتہائی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں اور پہلے ہی گیند سے میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کوہلی اور روہت بمقابلہ نوجوان ٹیلنٹ
روہت شرما اور ویرات کوہلی کو کرکٹ کی دنیا کے ستون مانا جاتا ہے، لیکن بانگر کا ماننا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی روایتی انداز میں کھیلتے ہیں۔ وہ اننگز کو سنبھالنے اور مستقل مزاجی پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ ٹی 20 کا موجودہ فارمیٹ اب مکمل دھماکہ خیز بیٹنگ کا تقاضا کرتا ہے۔ سنجے بانگر نے اپنی ترجیحات میں ‘لانگ ایویٹی’ (طویل کیریئر) کے بجائے ‘امپیکٹ’ (متاثر کن کارکردگی) کو فوقیت دی ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
اگر ہم شماریات پر نظر ڈالیں تو شکھر دھون آئی پی ایل تاریخ کے سب سے کامیاب اوپنر ہیں، جنہوں نے 202 میچوں میں 6362 رنز بنائے ہیں۔ ان کے بعد ڈیوڈ وارنر (5910 رنز) اور ویرات کوہلی (5388 رنز) کا نمبر آتا ہے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار مجموعی کیریئر کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ماہرین آج کل کے سٹرائیک ریٹ اور میچ پر اثر ڈالنے والی اننگز کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
آئی پی ایل 2026: کارکردگی کا موازنہ
رواں سیزن کے اعداد و شمار بھی ابھیشیک شرما کے حق میں جا رہے ہیں۔ ابھیشیک شرما اورنج کیپ کی دوڑ میں شامل ہیں اور اب تک 440 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ایک شاندار سنچری بھی شامل ہے۔ دوسری طرف، ویرات کوہلی 379 رنز کے ساتھ ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ روہت شرما، جو انجری کے باعث کچھ میچوں سے باہر رہے، 221 رنز بنا سکے ہیں۔
- ابھیشیک شرما: 440 رنز، ایوریج 48.88، 1 سنچری، 3 نصف سنچریاں۔
- ویرات کوہلی: 379 رنز، ایوریج 54.14، 3 نصف سنچریاں۔
- روہت شرما: 221 رنز، ایوریج 55.25، 2 نصف سنچریاں۔
نتیجہ: کیا یہ نسل کی تبدیلی ہے؟
سنجے بانگر کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آئی پی ایل اب صرف تجربہ کار کھلاڑیوں کا میدان نہیں رہا بلکہ یہ نوجوانوں کی بے باکی اور جارحیت کا دور ہے۔ ابھیشیک شرما جیسے کھلاڑیوں کا ابھرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ٹی 20 کرکٹ کا انداز مزید تیزی سے بدلے گا۔ اب شائقین کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا ابھیشیک شرما اپنی اس فارم کو برقرار رکھ کر خود کو واقعی لیجنڈز سے بہتر ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا جارحانہ انداز، تجربے اور مستقل مزاجی سے زیادہ اہم ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔
