Cricket News

رشبھ پنت کی نظر اندازی اور پرنس یادو کا عروج: سنجیو گوئنکا کا خاموش ردعمل

Riya Sen · · 1 min read

رشبھ پنت اور سنجیو گوئنکا: ایک پیچیدہ تعلق

آئی پی ایل 2026 کے دوران رشبھ پنت اور لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے مالک سنجیو گوئنکا کے درمیان تعلقات مسلسل بحث کا موضوع بنے رہے ہیں۔ اس سے قبل کیمرا پر ریکارڈ کی گئی ایک تلخ گفتگو نے کافی تنازعہ کھڑا کیا تھا، جسے بعد میں فرنچائز کی جانب سے غلط فہمی قرار دیا گیا۔ اب جبکہ رشبھ پنت کو بھارتی ٹیم سے اہم دھچکا لگا ہے، گوئنکا کا طرزِ عمل ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

سنجیو گوئنکا اور رشبھ پنت (فوٹو کریڈٹ: اے ایف پی اور اے پی فوٹوز)

رشبھ پنت کا قومی ٹیم سے اخراج اور گوئنکا کی خاموشی

حال ہی میں بی سی سی آئی نے افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان کیا، جس میں رشبھ پنت کے لیے مایوس کن خبریں تھیں۔ پنت کو ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ان سے نائب کپتانی کا عہدہ لے کر کے ایل راہول کو سونپ دیا گیا۔ یہ پنت کے کیریئر کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موقع پر جہاں کرکٹ ماہرین پنت کی فارم اور مستقبل پر بحث کر رہے ہیں، وہیں سنجیو گوئنکا نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

پرنس یادو کا عروج: ایک نئی امید

رشبھ پنت کے بارے میں کچھ کہنے کے بجائے، سنجیو گوئنکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کا رخ کیا اور پرنس یادو کو بھارتی ٹیم میں پہلی بار کال اپ ملنے پر مبارکباد دی۔ گوئنکا نے نوجوان فاسٹ بولر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ پرنس کی محنت اور کرکٹ کے لیے بھوک نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پرنس کے کیریئر کا صرف آغاز ہے۔

پرنس یادو کی کارکردگی کا جائزہ

  • آئی پی ایل 2026: 12 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں۔
  • تسلسل: کئی میچوں میں دو اور تین وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
  • ارتقاء: 2025 کے سیزن کے مقابلے میں اس سال ان کی بولنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے، جہاں وہ پہلے کافی مہنگے ثابت ہوتے تھے۔

پرنس یادو کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ سلیکٹرز جسپریت بمراہ کی غیر موجودگی میں نوجوان باصلاحیت کھلاڑیوں کو موقع دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایل ایس جی کی مشکلات اور پنت کی کپتانی

پرنس یادو کی کامیابی ایک طرف، لیکن لکھنؤ سپر جائنٹس کی ٹیم مجموعی طور پر آئی پی ایل 2026 میں جدوجہد کر رہی ہے۔ رشبھ پنت کی قیادت میں ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے نمبروں میں سے ایک ہے۔ 12 میچوں میں سے صرف 4 میں کامیابی حاصل کرنا فرنچائز کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

ٹیم کی بیٹنگ اور بولنگ میں توازن کا فقدان اور پنت کے فیصلوں پر تنقید اس سیزن کا اہم حصہ رہی ہے۔ کیا پرنس یادو جیسے نوجوان کھلاڑیوں کا ابھرنا ٹیم کے لیے آنے والے میچوں میں کوئی بہتری لائے گا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال ایل ایس جی انتظامیہ اور کپتان کے درمیان تعلقات اور ٹیم کی کارکردگی کرکٹ کے حلقوں میں گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

نتیجہ

سنجیو گوئنکا کا یہ انتخاب کہ وہ پنت کی تنزلی پر بات کرنے کے بجائے پرنس یادو کی ترقی کو اجاگر کریں، فرنچائز کی حکمت عملی اور ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔ کرکٹ شائقین اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا پنت اپنی فارم دوبارہ حاصل کر کے ٹیم میں واپسی کر پائیں گے یا نہیں۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.