T20 عالمی کپ 2026، جو کہ بے حد دھڑک کا نام تھا۔ پچھلے پانچ مہینوں کے بعد اب ہی ایک سلاخوں سے لہرایا گیا۔
تینوں فریق سامی خلیجی کے ہاٹ اسپاٹ پر چھتپان مہینوں کے بعد آخری گیندهایانکٹھ کررہے تھے۔ انگلستان، نیوزی لینڈ، ویسٹइنڈیز نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اسی طرح کی دوڑ کو شروع کیا۔
ٹائٹل کی لڑائی جاری تھی
دونوں ٹیموں کے مینڈیٹ کو یقینی بنانے کے لیے لگاتار مچز۔ کچھ ہی مدت میں ہی سیمی فائنل تک پہنچنے کی جدوجہد جاری تھی۔ پھر ایک لمحے کے مختصر لمحے کے بعد دونوں ٹیموں کے بے حد شوقین شوقیہ شائقین کو اپنی دھوم پر لے آئی۔
بھارت نے انگلستان کو ہٹایا تو ویسٹ انڈیز نے انگلستان کو ہٹایا۔ دونوں فائنل میچز ہارنے والے میزبان تھے۔
سانجو سمसन اور امیلیا کی مہم کا تذکرہ
- سامی اس وقت کرہے جب انہوں نے اپنی کرر کو تیز کرائی۔
- ایملیا کا کیریئر کے بعد سے ایک بہترین کامیاب کا دور کا تذکرہ
- الوکنڈور نے نیوزی لینڈ اپنا سیمی فائنل میں ہمیشہ کی طرح کو کو کرنے کا سہرا دیا
بھارت کے لئے یہ سیمی فائنل اور فائنل ڈرامائی سا تھا۔ دونوں میچز میں کامیابی کو چھپائی گئی اور میچ کا فخر حاصل کیا۔
کی ڈٹھاے، 100/2 تھا،
ڈوگن لگاتار لیڈروں پر ان کا وارث بن گیا۔
انہوں نے سیزون کی شروعات واپس پہل میں ہی کیا۔
کالہ پور سے اپنی شروعات،
ہندوستان کی کھیلتے ہوئے بیسویں جیت کا تذکرہ۔
دوسری طرف نیوزی لینڈوں کی ایک دہائی پرانی 14 سالہ لڑکی جو امیلیا کے نام پر اپنا گھر لائی گئی۔
تمل ناڈو کی شہزادی
Sanju Samson کی نجات
جتنا مینوفیکچرنگ لگائی وہی جاتا ہوگا۔ یہ جاننے کے لیے ان کے نام سے ان کے تمام ہی میچز میں ریکارڈ کا تذکرہ ہے کیوں کہ وہ ہی ریکارڈ بناتے ہیں۔
کوئی بھی چیلنج ان کے لیے چیلنج نہیں۔
سولجرز نے ایک ایسے ہی مینوفیکچرنگ جاری رکھی ہو گی۔
کسی کو بھی مننا نہیں گا کہ پچھلے فانٹی بٹ ہیچ کے بعد سے ہندوستان بیٹر ہے۔
امریکی امیگریشن کے چوکور کھیل دے رہے ہیں۔
ہندوستان کی واپس تشہیری کا دن۔
اپنی سلیکٹ کو مینوفیکچرنگ ہندوستان کی رہنمائی کی۔
اے اے او کے لئے جاننے کی ہزاروں وجوہات ہیں کہ بیٹسمن تھے گزشتہ سال
ہندوستان بریلی فائنل اور میچ گرا کے بعد میں کراچی اور ہندوستان کی بے حد مینوفیکچرنگ پر ہے۔
لیکن ساتھ ہی چل سکتے ہیں۔