News

میرپور ٹیسٹ: شانتو کی سنچری اور مومن الحق کی نصف سنچری، پاکستان مشکلات میں

Sneha Roy · · 1 min read

میرپور ٹیسٹ: بنگلہ دیش کا پاکستان پر غلبہ

میرپور میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ میچ کے دوسرے سیشن میں بنگلہ دیش نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ چائے کے وقفے تک بنگلہ دیش کا اسکور 3 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز تک پہنچ گیا تھا۔ کپتان نجم الحسن شانتو کی 101 رنز کی اننگز اور مومن الحق کی 64 رنز پر ناقابل شکست اننگز نے ٹیم کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔

شانتو اور مومن کی ریکارڈ ساز شراکت داری

شروعات میں جب بنگلہ دیشی ٹیم 31 رنز پر اپنے دو اہم بلے بازوں کو کھو چکی تھی، تب شانتو اور مومن الحق نے مل کر 170 رنز کی شاندار شراکت داری قائم کی۔ پاکستان کے کپتان شان مسعود کی جانب سے گیند بازوں میں مسلسل تبدیلی کے باوجود، بنگلہ دیشی بلے بازوں نے کوئی موقع نہیں دیا۔ شانتو خاص طور پر نعمان علی کی اسپن بولنگ کے خلاف بہت جارحانہ نظر آئے اور انہوں نے کور اور مڈ آف پر عمدہ شاٹس کھیلے۔

پاکستانی بولنگ کا مایوس کن مظاہرہ

اگرچہ پچ پر گھاس کی موجودگی کی وجہ سے پاکستانی پیسرز کو ابتدائی اوورز میں مدد ملی تھی، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، پچ بلے بازوں کے لیے سازگار ہوتی گئی۔ شاہین آفریدی اور محمد عباس اپنی ابتدائی کامیابیوں کے بعد اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکے اور پاکستانی بولنگ اٹیک بنگلہ دیشی بلے بازوں کے سامنے بے اثر نظر آیا۔ محمد عباس نے سیشن کے آخری اوور میں شانتو کو آؤٹ کر کے پاکستان کو ایک اہم کامیابی دلائی، جو کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہوئی۔

میچ کے اہم لمحات

  • ابتدائی مشکلات: میچ کے آغاز میں گرین ٹاپ وکٹ پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو 31 پر 2 وکٹوں سے دباؤ میں لیا تھا۔
  • سنچری کا سنگ میل: نجم الحسن شانتو نے اپنی نویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی، جس کے بعد وہ ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔
  • مومن الحق کا دفاع: مومن الحق نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سرے کو سنبھالے رکھا اور پاکستانی بولرز کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا۔
  • فیلڈنگ کی غلطیاں: پاکستان کو مومن الحق کا ایک کیچ چھوڑنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلے بازوں نے میچ کا رخ موڑ دیا۔

توقعات اور حکمت عملی

پاکستان نے اس سیریز کے لیے اسپن کے بجائے پیس بولنگ پر زیادہ انحصار کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن میرپور کی کنڈیشنز میں ان کے پیسرز کو وکٹ لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ شان مسعود کی قیادت میں پاکستانی ٹیم اب کوشش کرے گی کہ میچ کے آخری سیشن میں مزید وکٹیں حاصل کر کے بنگلہ دیش کے اسکور کو محدود رکھا جائے۔ دوسری جانب بنگلہ دیشی ٹیم ایک بڑے اسکور کی طرف گامزن ہے تاکہ میچ میں اپنی برتری کو مزید مستحکم کر سکے۔

نتیجہ

میچ کے اس مرحلے پر بنگلہ دیشی ٹیم نفسیاتی برتری رکھتی ہے۔ شانتو کی سنچری نے ٹیم میں اعتماد پیدا کیا ہے، جبکہ مومن الحق کی موجودگی پاکستان کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں میچ کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ پاکستانی بولرز کس طرح نئی گیند کے ساتھ وکٹیں حاصل کرتے ہیں اور بنگلہ دیش اپنے اسکور کو کہاں تک لے جانے میں کامیاب ہوتا ہے۔