[CRK] شرییاس ایئر: آئی پی ایل 2026 میں شاندار فارم اور بھارتی ٹی 20 ٹیم میں واپسی کی بحث

[CRK]

شرییاس ایئر کی فارم: ایک نئی اور طاقتور شروعات

آئی پی ایل 2026 کے موجودہ سیزن میں شرییاس ایئر ایک ایسی فارم میں نظر آ رہے ہیں جس نے نہ صرف ان کے ناقدین کو خاموش کر دیا ہے بلکہ انہیں ٹورنامنٹ کے سب سے خطرناک بلے بازوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ اپنی حالیہ تین اننگز میں 50، 69 ناٹ آؤٹ اور 66 رنز اسکور کرنے والے ایئر اس وقت پنجاب کنگز (PBKS) کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہے ہیں۔

پنجاب کنگز، جو گزشتہ سیزن میں فائنل ہار کر مایوس ہوئے تھے، اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبر پر موجود ہیں۔ اس کامیابی کے پیچھے ایئر کی بیٹنگ اور ان کی بہترین قیادت کا بڑا ہاتھ ہے، جس کی بدولت ٹیم نے چار جیتیں حاصل کی ہیں اور ایک میچ بارش کی وجہ سے دھلا ہے۔ ان کی حالیہ کارکردگی کو دیکھ کر سابق کھلاڑی ایرن فنچ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “جب آپ انہیں کھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ وہ کتنے بہترین کھلاڑی ہیں۔”

اعداد و شمار کی زبان میں شرییاس کی برتری

اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو شرییاس ایئر کی موجودہ حالت کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ 2025 کے آغاز سے اب تک آئی پی ایل میں 500 سے زائد رنز بنانے والے 22 بلے بازوں میں، ایئر کا اسٹرائیک ریٹ تیسرے نمبر پر ہے، جہاں وہ صرف ابھیشیک شرما اور اپنے ہی ساتھی پریانش آریا سے پیچھے ہیں۔

صرف اسٹرائیک ریٹ ہی نہیں، بلکہ ان کی اوسط (Average) بھی اس عرصے میں تیسری بہترین ہے، جس میں صرف ویرات کوہلی اور جوس بٹلر ان سے آگے ہیں۔ مزید یہ کہ پچھلے دو سیزن کے مجموعی رنز کے لحاظ سے صرف چار بلے باز ہیں جنہوں نے ان سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ایئر نے اپنی بیٹنگ میں استحکام اور جارحیت کا ایک بہترین توازن پیدا کر لیا ہے۔

تکنیکی بہتری اور اسمارٹ گیم کا امتزاج

شرییاس ایئر کی اس کامیابی کا راز صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ سخت محنت اور تکنیکی تبدیلیوں میں چھپا ہے۔ پنجاب کنگز کے اسپن بولنگ کوچ، سائرج بہوتولے کے مطابق، ایئر نے اپنے کھیل کو گہرائی سے سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ بہوتولے کا کہنا ہے کہ “شرییاس نے اس بات پر بہت کام کیا ہے کہ ان کے لیے کیا کام کر رہا ہے اور کیا نہیں۔ وہ اب بہت اسمارٹ ہو گئے ہیں اور جانتے ہیں کہ کن بولرز کو نشانہ بنانا ہے۔”

ماضی میں ایئر کے خلاف شارٹ بال (Short Ball) ایک کمزوری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب انہوں نے اس حصے کو مکمل طور پر درست کر لیا ہے۔ اب وہ شارٹ گیندوں کو نہ صرف ہینڈل کر رہے ہیں بلکہ انہیں کنٹرول کے ساتھ باؤنڈریز میں تبدیل کر رہے ہیں۔ وہ وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فرنٹ فٹ و بیک فٹ کا استعمال انتہائی مہارت سے کرتے ہیں۔

پنجاب کنگز اور 200 رنز کے ہدف کا شکار

شرییاس ایئر کی کپتانی میں پنجاب کنگز نے رنز کے تعاقب (Chase) میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تمام ٹی 20 انٹرنیشنل اور لیگ کرکٹ کی تاریخ میں، پنجاب کنگز نے سب سے زیادہ 10 مرتبہ 200 سے زائد رنز کے ہدف کا کامیابی سے تعاقب کیا ہے، جو کہ عالمی ریکارڈ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے تین کامیاب تعاقب ایئر کی کپتانی میں ہوئے، جن میں سے دو اسی سیزن میں آئے۔

حالیہ میچ میں ممبئی انڈینز کے خلاف 196 رنز کے ہدف کو ایئر کی ٹیم نے 21 گیندیں باقی رہتے ہوئے حاصل کر لیا۔ بہوتولے کے مطابق، ایئر کی سب سے بڑی خوبی “کھیل کی صورتحال کو سمجھنا اور گیم کو گہرا لے جانا” ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کب جارحانہ کھیلنا ہے اور کب وکٹ بچا کر شراکت داری کو آگے بڑھانا ہے۔

بھارتی قومی ٹیم میں واپسی: ایک پیچیدہ بحث

شرییاس ایئر کی اس شاندار فارم نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے: کیا انہیں بھارتی ٹی 20 ٹیم میں شامل ہونا چاہیے؟ ایئر دسمبر 2023 کے بعد سے کوئی ٹی 20 انٹرنیشنل نہیں کھیلے اور فی الحال صرف ون ڈے ٹیم کا حصہ ہیں۔

پیوش چاولہ کا ماننا ہے کہ اگر وہ سلیکٹر ہوتے تو ایئر کو بلا جھجھک ٹیم میں شامل کرتے کیونکہ وہ مڈل آرڈر کے بہترین کھلاڑی ہیں اور ان کے پاس ایک بہترین “کرکٹنگ برین” ہے جو ٹیم کی قیادت بھی کر سکتا ہے۔

دوسری طرف، ایرن فنچ کا خیال ہے کہ بھارتی ٹیم میں موجود بے پناہ گہرائی (Depth) ایئر کے لیے ایک رکاوٹ ہے۔ بھارت نے مسلسل دوسری بار ٹی 20 ورلڈ کپ جیتا ہے، اور ایک جیتنے والی ٹیم میں جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم، فنچ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلیا میں ہے جہاں گیند زیادہ باؤنس کرے گی، اور ایسی شرائط میں شرییاس ایئر جیسے کھلاڑی، جو ہر طرح کے حالات میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بھارتی ٹیم کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ شرییاس ایئر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک اچھے کھلاڑی نہیں بلکہ ایک اسمارٹ اور حکمت عملی سے کھیلنے والے لیڈر بھی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارتی سلیکٹرز ان کی اس فارم کو نظر انداز کریں گے یا انہیں دوبارہ قومی رنگ میں نظر آئیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *