[CRK]
گجرات ٹائٹنز کی روایتی فتح اور کولکتہ کی مسلسل ناکامی
آئی پی ایل 2026 کا میلہ جوں جوں آگے بڑھ رہا ہے، کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گجرات ٹائٹنز (GT) کے خلاف کھیلے گئے میچ میں کولکتہ کو ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ٹورنامنٹ میں مسلسل چھ میچز ہارنے والی ٹیم بن گئی ہے۔ گجرات ٹائٹنز نے اپنی مخصوص حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے پہلے معیاری فاسٹ باؤلنگ کے ذریعے حریف ٹیم کو محدود کیا اور پھر کپتان شبھمن گل کی شاندار اننگز کی بدولت ہدف حاصل کر لیا۔
کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے غلط فیصلے اور ناقص آغاز
کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے میچ کا آغاز ہی مایوس کن رہا۔ ٹیم انتظامیہ نے فن ایلن جیسے جارح مزاج بلے باز کو ڈراپ کرنے کا حیران کن فیصلہ کیا، جو کہ ان کی بیٹنگ لائن اپ کے سب سے بہترین آپشن سمجھے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ، ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا، کیونکہ شبھمن گل نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ شام کے وقت اوس (Dew) کھیل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ میچ کے دوران کولکتہ کی ٹیم اکثر لمحات میں گجرات سے پیچھے ہی نظر آئی۔
سراج اور ربادا کی تباہ کن باؤلنگ
گجرات ٹائٹنز کے فاسٹ باؤلرز محمد سراج اور کگیسو ربادا نے پاور پلے میں کولکتہ کے بلے بازوں کو بے بس کر دیا۔ سراج نے اپنے پہلے ہی اوور میں تمام گیندیں آؤٹ سوئنگ کیں اور کے کے آر کے کپتان اجنکیا رہانے کو پویلین کی راہ دکھائی۔ دوسرے سرے سے ربادا نے انگکرش رگھوونشی کو ایک ایسی گیند پر آؤٹ کیا جس پر ٹیسٹ میچ کا گمان ہوتا تھا۔ ٹم سیفرٹ نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ بھی ربادا کا شکار بن گئے۔ پاور پلے کے اختتام پر کولکتہ کا اسکور محض 37 رنز تھا، جو آئی پی ایل 2026 کے کم ترین پاور پلے اسکورز میں سے ایک ہے۔
کیمرون گرین کی عجیب و غریب اننگز
کولکتہ کی جانب سے کیمرون گرین نے 79 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن یہ اننگز متضاد حصوں پر مشتمل تھی۔ شروع میں وہ گیند کو مڈل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور انہوں نے پہلی 29 گیندوں پر صرف 27 رنز بنائے۔ تاہم، 12ویں سے 14ویں اوور کے دوران انہوں نے اچانک جارحانہ رخ اختیار کیا اور راشد خان کے خلاف قدموں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے باؤنڈریز کی بارش کر دی۔ ایک وقت میں کولکتہ کا اسکور 15ویں اوور میں 4 وکٹوں پر 147 رنز تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ 200 کا ہندسہ عبور کر لیں گے۔
کولکتہ کی بیٹنگ لائن کی اچانک تباہی
گرین کی برق رفتار بیٹنگ کے باوجود کولکتہ کی ٹیم آخری اوورز میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ کے کے آر نے صرف 26 رنز کے اضافے پر اپنی آخری 5 وکٹیں گنوا دیں۔ کیمرون گرین کو اس دوران اسٹرائیک بھی کم ملی اور وہ اپنی روانی کھو بیٹھے۔ آخری اوورز میں پرسدھ کرشنا اور راشد خان نے انہیں باندھ کر رکھا، جس کی وجہ سے پوری ٹیم 180 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
شبھمن گل کی کلاس اور گجرات کا تعاقب
181 رنز کا ہدف گجرات ٹائٹنز کی مضبوط بیٹنگ لائن کے لیے مشکل نہیں تھا، خاص طور پر جب شبھمن گل فارم میں ہوں۔ گل نے پاور پلے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور محض 15 گیندوں پر 34 رنز جڑ دیے۔ انہوں نے انوکل رائے کے خلاف ایک انتہائی دلکش ان سائیڈ آؤٹ چھکا لگایا جس نے تماشائیوں کے دل جیت لیے۔ گجرات نے پہلے چھ اوورز میں 71 رنز بنا کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ سائی سدرشن اور جوس بٹلر نے مختصر مگر اہم اننگز کھیل کر گل کا بھرپور ساتھ دیا۔
گجرات کا مڈل آرڈر اور اعصاب شکن اختتام
اگرچہ شبھمن گل نے 86 رنز بنا کر جیت کی بنیاد رکھ دی تھی، لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد گجرات کا مڈل آرڈر تھوڑا لڑکھڑا گیا۔ واشنگٹن سندر اور گلین فلپس رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔ میچ آخری اوور تک چلا گیا جہاں گجرات کو جیت کے لیے 5 رنز درکار تھے۔ رمندیپ سنگھ نے آخری اوور کی پہلی گیند پر فلپس کو آؤٹ کر کے امید پیدا کی، لیکن راہول تیوتیا نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے دو گیندیں قبل ہی اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔
خلاصہ
گجرات ٹائٹنز کی یہ فتح ان کی بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، جبکہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے یہ ایک اور سبق آموز ہار ہے۔ کے کے آر کو اپنی سلیکشن اور گیم پلان پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ان کے لیے پلے آف کی دوڑ ختم ہو جائے گی۔ دوسری طرف شبھمن گل کی فارم گجرات کے لیے ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں بہت خوش آئند ثابت ہوگی۔
- مین آف دی میچ: شبھمن گل (86 رنز)
- بہترین باؤلر: کگیسو ربادا (3 وکٹیں، 29 رنز)
- اہم سنگ میل: کولکتہ کی مسلسل چھٹی شکست