شوبمن گل کی گجرات ٹائٹنز کا شرمناک ریکارڈ: کے کے آر کے خلاف بدترین کارکردگی
آئی پی ایل 2026: گجرات ٹائٹنز کی باؤلنگ کا امتحان
آئی پی ایل 2026 کے جاری سیزن میں اب تک گجرات ٹائٹنز کی بیٹنگ کارکردگی کافی شاندار رہی ہے، جہاں ان کے ٹاپ آرڈر بلے بازوں نے مسلسل رنز بنائے ہیں۔ ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ دو پوزیشنز کے لیے سخت مقابلہ کر رہی ہے۔ جہاں بلے بازوں کی تعریف کی جانی چاہیے، وہیں گجرات کی کامیابی میں ان کی مہلک باؤلنگ اٹیک کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔
کاگیسو ربادا، محمد سراج اور راشد خان جیسے عالمی معیار کے باؤلرز کی موجودگی میں ٹائٹنز کا باؤلنگ یونٹ کسی بھی اپوزیشن کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے خلاف حالیہ میچ میں ان باؤلرز کو ایک سخت حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
ایڈن گارڈنز پر کے کے آر کا طوفان
شوبمن گل نے ایڈن گارڈنز کی وکٹ پر ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو ابتدائی طور پر درست ثابت ہوا جب اجنکیہ رہانے جلد پویلین لوٹ گئے۔ لیکن اس کے بعد فن ایلن کا طوفان آیا جس نے گجرات کے باؤلرز کی لائن اور لینتھ کو بکھیر کر رکھ دیا۔
کے کے آر کے اوپنر فن ایلن نے محض 35 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی اور کئی ٹی 20 ریکارڈز توڑ ڈالے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد انگکرش رگھوونشی اور کیمرون گرین نے ذمہ داری سنبھالی اور گجرات کی باؤلنگ پر جوابی حملہ جاری رکھا۔
ریکارڈ ساز اننگز اور گجرات کی ناکامی
رگھوونشی 82 رنز پر ناقابل شکست رہے جبکہ کیمرون گرین نے 52 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ ان کی بدولت کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مقررہ 20 اوورز میں 247/2 کا پہاڑ جیسا سکور کھڑا کر دیا۔ یہ گجرات ٹائٹنز کی آئی پی ایل تاریخ کا سب سے زیادہ سکور ہے جو انہوں نے کسی بھی میچ میں تسلیم کیا ہے۔
گجرات ٹائٹنز کے لیے ایک ناخوشگوار باب
گجرات ٹائٹنز کے لیے یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جسے وہ جلد فراموش کرنا چاہیں گے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو گجرات کی ٹیم اس سے قبل:
- آئی پی ایل 2025 میں پنجاب کنگز کے خلاف 243/5 رنز دے چکی ہے۔
- آئی پی ایل 2025 میں ہی لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے خلاف 235/2 رنز کا سامنا کر چکی ہے۔
کے کے آر کے خلاف 247 رنز کا ہدف گجرات کے لیے نہ صرف ایک چیلنج تھا بلکہ ان کی باؤلنگ کی حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ شوبمن گل کو اپنی قیادت اور باؤلنگ کے شعبے میں دوبارہ غور کرنا ہوگا تاکہ ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں اس قسم کی کارکردگی سے بچا جا سکے۔
کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ میچ ایک یادگار مقابلہ ثابت ہوا، لیکن گجرات ٹائٹنز کے مینجمنٹ کے لیے یہ انتباہ ہے کہ ان کی طاقت سمجھی جانے والی باؤلنگ اب حریفوں کے نشانے پر ہے۔ آنے والے میچوں میں ٹیم کو اپنی لائن اور لینتھ پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔
