News

گجرات ٹائٹنز بمقابلہ سن رائزرز حیدرآباد: ڈینیئل ویٹوری کا شکست پر اہم ردعمل

Danish Qureshi · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: گجرات ٹائٹنز کی شاندار فتح اور سن رائزرز حیدرآباد کا ‘عارضی بلپ’

احمد آباد کے میدان میں کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں گجرات ٹائٹنز نے سن رائزرز حیدرآباد کو ایک عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ گجرات کے فاسٹ باؤلرز نے ایسی قہر انگیز باؤلنگ کی کہ حیدرآباد کی پوری ٹیم صرف 169 رنز کے تعاقب میں 87 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس 82 رنز کی بڑی شکست کے باوجود، سن رائزرز حیدرآباد پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر برقرار ہے، جو ان کی اس سیزن میں مجموعی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈینیئل ویٹوری کا میچ کے بعد تجزیہ

میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سن رائزرز حیدرآباد کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے کہا کہ وہ ہاف وے مارک یعنی گجرات کی اننگز کے اختتام پر مطمئن تھے۔ ان کا کہنا تھا، ‘ہمیں معلوم تھا کہ گجرات کی باؤلنگ لائن اپ کے خلاف کھیلنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاص طور پر جب ان کے پاس پانچ بہترین فاسٹ باؤلرز اور راشد خان جیسا سپنر موجود ہو۔ ہمیں وہ آغاز نہیں مل سکا جس کی ہمیں ضرورت تھی، اور گجرات کے باؤلرز نے پورے میچ میں اس کا فائدہ اٹھایا۔’

ویٹوری نے اپنی ٹیم کی بیٹنگ یونٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ‘میں بیٹنگ یونٹ پر کوئی الزام نہیں ڈالتا، انہوں نے اس سال غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ آئی پی ایل میں ہر ٹیم کے ساتھ کبھی نہ کبھی ایسی چھوٹی موٹی لغزشیں ہوتی ہیں، اور آج ہمارا وہ دن تھا۔ مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم اگلے میچوں میں دوبارہ کامیابی کی راہ پر واپس نہ آسکیں۔’

گجرات ٹائٹنز کا باؤلنگ اٹیک: ایک ناقابل تسخیر دیوار

گجرات ٹائٹنز کی جیت کے اصل ہیرو ان کے فاسٹ باؤلرز رہے۔ کگیسو ربادا، محمد سراج، جیسن ہولڈر اور پرسدھ کرشنا نے مل کر مجموعی طور پر 14 اوورز میں صرف 82 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کیں۔ حیدرآباد کی اننگز صرف 14.5 اوورز تک ہی محدود رہی۔ ارشد خان پانچویں سیمر کے طور پر ٹیم میں شامل تھے لیکن انہیں باؤلنگ کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ گجرات کے باؤلرز نے پاور پلے کے اندر ہی ٹریوس ہیڈ، ابھیشیک شرما اور ایشان کشن جیسے جارح مزاج بلے بازوں کو آؤٹ کر کے میچ کا نقشہ بدل دیا تھا۔

سن رائزرز کی باؤلنگ میں مثبت پہلو

شکست کے باوجود سن رائزرز حیدرآباد کی باؤلنگ میں کچھ مثبت پہلو نمایاں رہے۔ پیٹ کمنز اور پروفل ہنجے نے اپنے سات اوورز میں چھ رنز فی اوور سے بھی کم کی شرح سے رنز دیے۔ پروفل ہنجے اور ثاقب حسین نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ اگرچہ ایشان ملنگا اس بار تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے اور 11.50 کی اوسط سے رنز دیے، لیکن گجرات کو 168 رنز تک محدود رکھنا ایک قابل تعریف کوشش تھی۔

ماہرین کی رائے: سنجے بانگر اور امباتی رائیڈو کا تجزیہ

سابق کرکٹر سنجے بانگر نے حیدرآباد کی باؤلنگ حکمت عملی کو ‘غیر معمولی’ قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر بی سائی سدرشن کے خلاف کی گئی منصوبہ بندی کی تعریف کی۔ بانگر نے کہا، ‘جس طرح انہوں نے سائی سدرشن کو لیگ اسٹمپ لائن پر باؤلنگ کی اور انہیں آف سائیڈ پر کھیلنے کا موقع نہیں دیا، وہ بہترین تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ میں نے سائی کو آف سائیڈ پر اتنے کم رنز بناتے دیکھا۔’

امباتی رائیڈو نے بھی بانگر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد نے حالات کا بہت اچھا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا، ‘انہوں نے شروع میں سلو گیندوں کا استعمال نہیں کیا بلکہ سیم اپ باؤلنگ کی جو اس پچ پر بہت موثر ثابت ہوئی۔ جب گیند تھوڑی پرانی ہوئی تب انہوں نے اپنی رفتار بدلی۔’

میچ کا خلاصہ اور اہم پرفارمنسز

  • گجرات ٹائٹنز بیٹنگ: بی سائی سدرشن نے 44 گیندوں پر 61 رنز بنائے، جبکہ واشنگٹن سندر نے 33 گیندوں پر 50 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی۔
  • حیدرآباد باؤلنگ: پروفل ہنجے نے پاور پلے میں شبمن گل (5) اور جوس بٹلر (7) کی اہم وکٹیں حاصل کیں۔
  • گجرات باؤلنگ: ربادا، سراج، ہولڈر اور پرسدھ کرشنا کی تباہ کن باؤلنگ نے حیدرآباد کو صرف 87 رنز پر سمیٹ دیا۔

سن رائزرز حیدرآباد کے لیے یہ میچ ایک سبق آموز تجربہ رہا ہے۔ اگرچہ وہ 82 رنز کے بڑے مارجن سے ہارے، لیکن ان کی باؤلنگ کی نپی تلی حکمت عملی اور کوچ کا اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں اب بھی ایک مضبوط حریف ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حیدرآباد اپنے اگلے میچ میں کس طرح کی واپسی کرتا ہے۔

Avatar photo
Danish Qureshi

Danish Qureshi covers team rankings, win-loss records, and comparative statistical analysis in franchise cricket.