[CRK]
اسٹیو واہ کا آسٹریلوی سلیکٹرز پر کڑا تنقیدی وار
آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب اور قد آور کپتانوں میں شمار ہونے والے اسٹیو واہ نے موجودہ آسٹریلوی سلیکشن پینل، خاص طور پر چیف سلیکٹر جارج بیلی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ واہ کا ماننا ہے کہ آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے دور اندیشی اور سخت فیصلوں کی اشد ضرورت ہے، مگر سلیکٹرز اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
کیا سلیکٹرز مشکل فیصلے لینے سے ڈرتے ہیں؟
ایک نایاب میڈیا اپیئرنس کے دوران اسٹیو واہ نے واضح کیا کہ جارج بیلی نے ماضی میں ایسے فیصلوں سے گریز کیا ہے جن کی ٹیم کو ضرورت تھی۔ ان کا کہنا تھا، “جارج بیلی کو اب مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ان میں ان فیصلوں کو کرنے کا حوصلہ یا خواہش نہیں تھی، لہذا اب انہیں دیگر سلیکٹرز کے ساتھ مل کر ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔”
ٹیم کی بڑھتی ہوئی اوسط عمر ایک بڑا چیلنج
آسٹریلیا کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم کی سب سے بڑی تشویش کھلاڑیوں کی عمر ہے۔ ایشز سیریز کے لیے منتخب کردہ 15 رکنی اسکواڈ میں 30 سال سے کم عمر کا صرف ایک کھلاڑی شامل ہے۔ عثمان خواجہ اگلے ماہ 39 سال کے ہو جائیں گے، جبکہ مچل اسٹارک، اسکاٹ بولینڈ، اور جوش ہیزل ووڈ جیسے تجربہ کار گیند باز بھی 35 برس یا اس سے زائد عمر کے ہیں۔ نیتھن لیون بھی 38 برس کے ہونے والے ہیں۔ اسٹیو واہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیم میں تدریجی تبدیلی نہ لائی گئی تو ایک ساتھ کئی سینئر کھلاڑیوں کے ریٹائر ہونے سے ٹیم میں ایسا خلا پیدا ہو جائے گا جسے پُر کرنا ناممکن ہوگا۔
سلیکشن میں کھلاڑیوں کا عمل دخل
ایک اہم نکتے پر بات کرتے ہوئے واہ نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ کھلاڑیوں کو ٹیم کے انتخاب میں رائے دینے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔ عثمان خواجہ کی جانب سے نوجوان کھلاڑیوں کے بارے میں رائے دینے پر واہ نے کہا، “میں چاہوں گا کہ سلیکٹرز ٹیم کا انتخاب کریں، نہ کہ کھلاڑی۔ حال ہی میں کھلاڑیوں کی جانب سے یہ مشورے سامنے آئے ہیں کہ ٹیم میں کون ہونا چاہیے۔ یہ کام سلیکٹرز کا ہے۔”
جارج بیلی کا دفاع اور مستقبل کا لائحہ عمل
دوسری جانب جارج بیلی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کا پینل مشکل فیصلے لینے سے نہیں گھبراتا۔ بیلی نے جوابی سوال کیا، “کیا کوئی ایسی عمر ہے جس کے بعد کھلاڑی کو ٹیم سے نکال دینا چاہیے؟ اگر کوئی کھلاڑی پرفارم کر رہا ہے تو کیا عمر ہی سب سے بڑا معیار ہونا چاہیے؟” بیلی کا اصرار ہے کہ وہ نوجوان ٹیلنٹ کو آسٹریلیا اے ٹورز اور ون ڈے کرکٹ کے ذریعے ٹیم میں شامل کرنے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
ایشز سیریز اور آسٹریلیا کا مستقبل
ڈیوڈ وارنر کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے آسٹریلیا اب بھی اوپننگ جوڑی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسٹیون اسمتھ کے اوپننگ کروانے کے تجربے سے لے کر نوجوان کھلاڑیوں نیتھن میک سوینی اور سیم کونسٹاس کو موقع دینے تک، سلیکٹرز مسلسل تذبذب کا شکار ہیں۔ اسٹیو واہ کا ماننا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جذبات کو ایک طرف رکھ کر ٹیم کے مفاد میں سخت فیصلے لیے جائیں تاکہ آسٹریلیا کی کرکٹ اپنی بلندیوں پر برقرار رہ سکے۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والی ایشز سیریز میں سلیکٹرز اسٹیو واہ کے مشورے پر کان دھرتے ہیں یا اپنے روایتی انداز کو ہی جاری رکھتے ہیں۔