سنیل نارائن: آئی پی ایل کی تاریخ کے بہترین کھلاڑی؟ امباتی رائیڈو کی بڑی رائے
آئی پی ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا کھلاڑی: سنیل نارائن
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی تاریخ میں کئی لیجنڈ کھلاڑی آئے اور گئے، لیکن امباتی رائیڈو کا ماننا ہے کہ ایک نام ایسا ہے جو سب سے اوپر کھڑا ہے۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے جادوئی اسپنر سنیل نارائن کے بارے میں بات کرتے ہوئے رائیڈو نے انہیں بلا جھجک ‘آئی پی ایل کی تاریخ کا بہترین کھلاڑی’ قرار دیا ہے۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب نارائن نے گجرات ٹائٹنز کے خلاف شاندار بولنگ کرتے ہوئے 29 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کی 29 رنز سے جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک میچ ونر کی پہچان
امباتی رائیڈو، جو خود آئی پی ایل کے تجربہ کار کھلاڑی رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ سنیل نارائن صرف ایک بولر نہیں بلکہ ایک مکمل میچ ونر ہیں۔ رائیڈو نے ایک شو کے دوران کہا کہ ‘آئی پی ایل میں بہت سے عظیم کھلاڑی آئے ہیں، لیکن نارائن کی بات ہی الگ ہے۔ وہ میرے لیے فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔’
دوسری جانب، سابق کرکٹر سنجے بانگر نے بھی نارائن کی تعریف کرتے ہوئے انہیں لیگ کا ایک ‘لیجنڈ’ قرار دیا۔ بانگر کے مطابق، نارائن کی طویل مدتی کارکردگی اور مختلف چیلنجز کے باوجود اپنی بولنگ ایکشن کو درست رکھتے ہوئے حریف بلے بازوں کو پریشان کرنا انہیں دوسرے اسپنرز سے ممتاز کرتا ہے۔
کامیابی کا طویل سفر
سنیل نارائن کا آئی پی ایل سفر 2012 میں شروع ہوا تھا، اور تب سے لے کر اب تک وہ کے کے آر کے لیے ایک اٹوٹ انگ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے کچھ اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
- وہ آئی پی ایل کی تاریخ میں 200 سے زائد وکٹیں لینے والے چند منتخب بولرز میں شامل ہیں۔
- کے کے آر کے لیے ہر سیزن میں ان کی اکانومی ریٹ شاذ و نادر ہی 8 رنز فی اوور سے زیادہ رہی ہے۔
- انہوں نے 2012، 2014 اور 2024 میں کے کے آر کو چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بانگر کا کہنا ہے کہ نارائن کے لیے 7.25 کی اکانومی ریٹ ایک ‘معمولی’ بات ہے کیونکہ وہ مسلسل اسی معیار کی بولنگ کرتے آ رہے ہیں۔ یہ مستقل مزاجی ہی انہیں دنیا کے دیگر اسپنرز سے منفرد بناتی ہے۔
بلے بازوں کے لیے کیوں ہیں اتنے مشکل؟
رائیڈو نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کیوں بڑے بڑے بلے باز بھی نارائن کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ راشد خان جیسے اسپنرز کی گیندیں اکثر تیزی سے سلپ ہو کر بلے پر آتی ہیں، جبکہ سنیل نارائن کی گیندیں پچ پر رکتی ہیں، جس سے بلے باز اپنی ٹائمنگ اور توازن کھو بیٹھتے ہیں۔
رائیڈو نے اعتراف کیا کہ جب وہ خود میدان میں اترتے تھے، تو ان کی حکمت عملی یہی ہوتی تھی کہ نارائن کے خلاف دفاعی انداز اپنایا جائے اور صرف ایک یا دو رنز پر اکتفا کیا جائے۔ ان کے مطابق، گزشتہ 12-13 سالوں میں کوئی بھی بلے باز نارائن کو مکمل طور پر حاوی ہو کر کھیلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ایک ‘ون ٹیم مین’ کی کہانی
سنیل نارائن کی سب سے بڑی طاقت ان کی وفاداری اور کے کے آر کے ساتھ ان کا طویل رشتہ ہے۔ 2012 سے لے کر آج تک، وہ صرف ایک ہی فرنچائز کے لیے کھیلے ہیں، جو آئی پی ایل جیسے لیگ میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کی بولنگ میں تنوع، جیسے کہ دونوں طرف گیند کو ٹرن کرنا، بلے بازوں کے ذہن میں ہمیشہ شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنیل نارائن نے اپنی محنت، مستقل مزاجی اور مہارت سے آئی پی ایل میں جو مقام حاصل کیا ہے، وہ اسے واقعی ایک لیجنڈ بناتا ہے۔ چاہے ناقدین ان کے ایکشن پر سوال اٹھاتے رہے ہوں، لیکن نارائن نے ہر بار اپنی کارکردگی سے جواب دیا اور ثابت کیا کہ وہ اس لیگ کے ناقابل تسخیر کھلاڑی ہیں۔
