Cricket News

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں بحران: تمیم اقبال کی قیادت چیلنج

Aditya Kulkarni · · 1 min read

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں ہلچل: تمیم اقبال اور ایڈہاک کمیٹی قانونی زد میں

بنگلہ دیش کرکٹ اس وقت ایک عجیب صورتحال سے گزر رہی ہے۔ جہاں قومی ٹیم میدان میں پاکستان جیسی بڑی ٹیموں کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے، وہیں بورڈ روم میں ایڈمنسٹریٹو بحران نے شدت اختیار کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی موجودہ ایڈہاک کمیٹی، جس کی سربراہی سابق کپتان تمیم اقبال کر رہے ہیں، اب قانونی دائرہ اختیار کے تحت جانچ پڑتال کا سامنا کر رہی ہے۔

عدالت کا دروازہ کیوں کھٹکھٹایا گیا؟

حال ہی میں بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ ڈویژن میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں 12 اہم کرکٹ شخصیات اور سابق عہدیدار شامل ہیں۔ ان افراد کا موقف ہے کہ بی سی بی کی منتخب ایگزیکٹو کمیٹی کو ختم کرنا اور اس کے بعد ایک ایڈہاک کمیٹی کا قیام غیر آئینی اور جمہوری عمل کے منافی ہے۔ درخواست گزاروں میں امین الاسلام بلبل، فاروق احمد، آصف اکبر اور خالد مشہود پائلٹ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔

امین الاسلام بلبل کا انخلاء اور تنازعات

بی سی بی کے سابق صدر امین الاسلام بلبل کو رواں سال کے اوائل میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ان کے اخراج کے پیچھے کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں، جن میں بورڈ کے اندر ہونے والے متعدد استعفے اور مبینہ طور پر ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے ساتھ پیش آنے والی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ امین الاسلام پر گزشتہ سال ہونے والے متنازعہ انتخابات میں ملوث ہونے کے الزامات بھی تھے، جس کی تحقیقات نیشنل اسپورٹس کونسل (این ایس سی) کی ایک کمیٹی کر رہی تھی۔

تمیم اقبال: کرکٹ بورڈ کے سب سے کم عمر سربراہ؟

تمیم اقبال، جو بنگلہ دیشی کرکٹ کے ایک بڑے نام ہیں، 37 سال کی عمر میں ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔ انہیں امین الاسلام بلبل کا جانشین نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کی یہ تقرری اب قانونی جنگ کا مرکز بن چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ منتخب شدہ باڈی کی جگہ اچانک ایڈہاک کمیٹی کا قیام بورڈ کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

مستقبل کے امکانات اور قانونی پیشرفت

عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے جسٹس فاطمہ نجیب اور جسٹس اے ایف ایم سیف الاسلام پر مشتمل بنچ تشکیل دی ہے، جس نے درخواست کی سماعت کی اجازت دے دی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، آنے والے ایک ہفتے کے اندر اس کیس میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اگر عدالت اس تقرری کو کالعدم قرار دیتی ہے، تو بی سی بی کے لیے نئے انتخابات کروانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔

بورڈ میں تبدیلیوں کا پس منظر

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں بورڈ کے اندر ایک ہی ہفتے میں چھ استعفے سامنے آئے تھے، جس کے بعد انتظامیہ کا ڈھانچہ بری طرح لڑکھڑا گیا تھا۔ جنوری میں اشتیاق صادق کے بطور ڈائریکٹر استعفے نے بھی بورڈ کے اندرونی حالات کو واضح کر دیا تھا۔ تمیم اقبال کی قیادت والی ایڈہاک کمیٹی میں منہاج العابدین، اطہر علی خان، رعنا امام، مرزا یاسر عباس، سید ابراہیم احمد، اسرافیل خسرو، تنزیل چوہدری، سلمان اصفہانی، رفیق الاسلام اور فہیم سنہا جیسے نام شامل ہیں، جن پر اب ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحران سے بورڈ کو نکالیں۔

مجموعی طور پر، یہ صورتحال بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ شائقین چاہتے ہیں کہ ٹیم کی فیلڈ پر کارکردگی متاثر نہ ہو، لیکن بورڈ کے اندر جاری یہ قانونی جنگ یقینی طور پر کھیل کی انتظامی سطح پر طویل مدتی اثرات مرتب کرے گی۔ کیا تمیم اقبال اس قانونی امتحان میں سرخرو ہو سکیں گے یا بورڈ کو نئے انتخابات کی طرف جانا پڑے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔