تمیم اقبال کی بطور بی سی بی صدر شاندار شروعات: توحید ہردائے کا اظہارِ اطمینان
بنگلہ دیش کرکٹ کا نیا باب: تمیم اقبال اور ایک نئی امید
بنگلہ دیشی کرکٹ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، اور اس تبدیلی کے مرکز میں سابق کپتان تمیم اقبال موجود ہیں۔ اپریل 2026 میں 37 سال کی عمر میں بی سی بی کے صدر کا عہدہ سنبھالنے والے تمیم اقبال نہ صرف بورڈ کی تاریخ کے کم عمر ترین صدر بنے، بلکہ انہوں نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹرز کو بورڈ چلانے کا تجربہ کتنا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
غیر معمولی حالات میں تقرری
تمیم اقبال کا بی سی بی صدر بننا کسی روایتی الیکشن کا نتیجہ نہیں تھا۔ اکتوبر 2025 کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے بعد نیشنل اسپورٹس کونسل نے امین الاسلام کی قیادت میں کام کرنے والی سابقہ کمیٹی کو تحلیل کر دیا تھا۔ ملک میں کرکٹ کے گرتے ہوئے معیار اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کی دستبرداری کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے حکومت کو ایک 11 رکنی ایڈہاک کمیٹی بنانے پر مجبور کیا، جس کی قیادت کی ذمہ داری تمیم اقبال کو سونپی گئی۔
توحید ہردائے کا اظہارِ رائے
قومی ٹیم کے اہم بیٹر توحید ہردائے نے نئے صدر کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ ہردائے کا کہنا ہے کہ تمیم اقبال کے آنے سے کھلاڑیوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘انہوں نے شائقین اور کھلاڑیوں کے لیے بہت اچھے اقدامات کیے ہیں۔ کھلاڑیوں کے نقطہ نظر سے، ہر کوئی خوش ہے۔’
ہردائے کے مطابق تمیم اقبال کی سب سے بڑی خوبی ان کی ‘رسائی’ ہے۔ چونکہ وہ خود حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کے لیے ان تک پہنچنا اور اپنے مسائل کھل کر بیان کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ وہ دیوار ہے جو ماضی میں بورڈ حکام اور کھلاڑیوں کے درمیان حائل رہتی تھی۔
اصلاحات اور ٹھوس اقدامات
تمیم اقبال نے صرف زبانی جمع خرچ نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات اٹھائے ہیں:
- معاوضوں میں اضافہ: ڈومیسٹک کرکٹ میں ماہانہ ریٹینر اور میچ فیس میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ کیٹیگری A کی تنخواہیں 65,000 ٹکا تک پہنچ گئیں، جبکہ خواتین کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔
- ڈومیسٹک ڈھانچہ: سیکنڈ الیون چیمپئن شپ کا آغاز کیا گیا تاکہ نئے ٹیلنٹ کو نچلی سطح سے موقع مل سکے۔
- شفافیت: تمیم نے ‘کمیٹی ٹیموں’ کے کلچر کا خاتمہ کیا، جہاں مخصوص کلبوں کو فائدہ پہنچایا جاتا تھا۔
- سہولیات: کھلاڑیوں کے لیے میڈیکل سہولیات بشمول آئی سی یو ایمبولینس کی فراہمی لازمی قرار دی گئی۔
اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش اور شائقین کے لیے اقدامات
شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ شائقین کے لیے 27,000 مربع فٹ کا کینوپی (چھت) نصب کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں دھوپ سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ واش رومز کی مرمت اور سولر پینلز کی تنصیب پر بھی کام جاری ہے۔ سابق کپتانوں کے لیے ‘کیپٹنز کارڈ’ کا اجرا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے 33 سابقہ کپتانوں کو تاحیات اسٹیڈیم تک رسائی اور صحت کی سہولیات میسر ہوں گی۔
مجموعی طور پر، تمیم اقبال کی قیادت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ایک ایسی سمت گامزن ہے جہاں پروفیشنلزم اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ شائقین اور کھلاڑیوں کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں بنگلہ دیشی کرکٹ مزید بلندیوں کو چھوئے گی۔
