[CRK] پرینڈر گاسٹ اور گارڈن کی شاندار بیٹنگ: دی بلیز کی ایسیکس کے خلاف سنسنی خیز جیت
[CRK]
ایک سنسنی خیز مقابلہ اور دی بلیز کی حیرت انگیز واپسی
کرکٹ کے میدان میں بعض اوقات ایسی کامیابیاں ملتی ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔ ایمبیسیڈور کروز لائن گراؤنڈ پر دی بلیز اور ایسیکس کے درمیان ہونے والا مقابلہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب ایسا لگتا تھا کہ ایسیکس باآسانی یہ میچ جیت لے گی، لیکن اورلا پرینڈر گاسٹ اور کرسٹی گارڈن کی ناقابلِ شکست بیٹنگ نے اس کہانی کو بدل کر رکھ دیا۔
ایسیکس کی بیٹنگ اور امرہ کار کی کوششیں
میچ کا آغاز ایسیکس کی بیٹنگ سے ہوا، جنہوں نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 213 رنز کا ایک قابلِ احترام مجموعہ ترتیب دیا۔ ٹیم کی جانب سے امرہ کار نے سب سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 50 رنز بنائے، جس میں انہوں نے بالینجر کو ریمپ شاٹ کے ذریعے باؤنڈری تک پہنچایا اور سائیور برنٹ کی گیند پر ایک شاندار چھکا بھی لگایا۔
ان کا ساتھ جودی گریوکوک نے دیا جنہوں نے 44 رنز بنائے، تاہم ان کی بیٹنگ میں شروع میں دشواری دیکھی گئی اور انہوں نے رن اسکور بورڈ پر آنے کے لیے 15 گیندیں لیں۔ لیکن ایک بار جب وہ سیٹ ہو گئیں تو انہوں نے سائیور برنٹ کی مسلسل تین گیندوں پر چوکے لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
دی بلیز کی باؤلنگ کا جادو
ایسیکس کے اس مجموعے کو روکنے میں دی بلیز کے گیند بازوں نے اہم کردار ادا کیا۔ گریس بالینجر نے شروع ہی سے اپنی ان سوئنگ سے مخالف بیٹنگ لائن کو پریشان کیا اور گریس سکریوینز کو ایل بی ڈبلیو (LBW) آؤٹ کیا۔ بالینجر کے ساتھ ساتھ اورلا پرینڈر گاسٹ اور کیتھرین برائس نے بھی بہترین باؤلنگ کی اور ان تینوں نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
دی بلیز کی بیٹنگ کا مشکل آغاز اور تباہی
214 رنز کے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے دی بلیز کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ ٹیم نے صرف 61 رنز کے عوض اپنی 5 اہم وکٹیں گنوا دیں، جس نے شائقین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ میچ اب ایسیکس کی گرفت میں ہے۔ انگلینڈ کی کپتان نٹ سائیور برنٹ پہلی ہی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئیں، جبکہ ٹیم می بیومینٹ کو کیٹ کوپیک نے جلد ہی پویلین بھیج دیا۔
سوفیہ منرو نے ایسیکس کی جانب سے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 28 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں، جس میں برائس اور سائیور برنٹ جیسی اہم کھلاڑی شامل تھیں۔ ایک وقت میں ماری کیلی نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی اور اپنی کلائیوں کے استعمال سے باؤنڈریز لگائیں، لیکن ایک غلط فہمی کے نتیجے میں وہ رن لینے کے لیے نکلیں اور منرو کے ڈائریکٹ ہٹ نے انہیں آؤٹ کر کے میچ کو ایک بار پھر ایسیکس کی طرف موڑ دیا۔
پرینڈر گاسٹ اور گارڈن کی تاریخی شراکت
جب امیدیں دم توڑ رہی تھیں، تب اورلا پرینڈر گاسٹ نے میدان سنبھالا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی وکٹ بچائی بلکہ جارحانہ بیٹنگ کا آغاز کیا۔ پرینڈر گاسٹ نے گریوکوک کی ایک فل ٹاس گیند پر چھکا جڑا اور پھر اسمائل کی گیند پر بالکل اسی جگہ ایک اور شاندار چھکا لگا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے 63 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور آخر تک 69 رنز بنا کر नाबाद رہیں۔ ان کا بھرپور ساتھ کپتان کرسٹی گارڈن نے دیا، جنہوں نے 47 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جس میں 7 چوکے شامل تھے۔ ان دونوں کے درمیان آٹھویں وکٹ کے لیے 111 رنز کی غیر شراکت قائم ہوئی، جس نے ایسیکس کے گیند بازوں کو بے بس کر دیا اور دی بلیز کو جیت کے قریب پہنچا دیا۔
فتح کا لمحہ
جیسے جیسے ہدف قریب آیا، پرینڈر گاسٹ نے ایک اور سیدھا چھکا لگا کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ آخر کار، کرسٹی گارڈن نے ایک باؤنڈری ہٹ کر دی بلیز کو 3 وکٹوں سے ایک شاندار اور سنسنی خیز فتح دلا دی۔ دی بلیز نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 215 رنز بنا کر اس مشکل ہدف کو حاصل کر لیا۔
میچ کا خلاصہ
- ایسیکس: 213 آل آؤٹ (امرہ کار 50، جودی گریوکوک 44)
- دی بلیز: 215 فار 7 (اورلا پرینڈر گاسٹ 69*، کرسٹی گارڈن 47*)
- نتیجہ: دی بلیز 3 وکٹوں سے جیت گئی۔
