آئی پی ایل 2026: ہاردک پانڈیا نہیں، یہ تین بڑے کپتان اپنی نوکری کھو سکتے ہیں
آئی پی ایل 2026: قیادت کا بحران اور فرنچائزز کے بڑے فیصلے
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ہمیشہ سے ہی ٹیلنٹ اور مواقع کا سنگم رہی ہے۔ یہ لیگ نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں دکھانے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے، بلکہ یہ کپتانوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہوتی ہے۔ آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں ہم نے دیکھا کہ جہاں رجت پاٹیدار، شریاس ایر، شبمن گل اور ایشان کشن جیسے لیڈروں نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا، وہاں ہاردک پانڈیا اور رشبھ پنت جیسے بڑے ناموں کی قیادت مایوس کن رہی۔
قیادت میں ناکامی ہی ممبئی انڈینز (MI) اور لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بنی، جو اس سیزن میں سب سے پہلے باہر ہونے والی ٹیمیں بنیں۔ تاہم، حالیہ رپورٹس یہ اشارہ دے رہی ہیں کہ صرف ممبئی یا لکھنؤ ہی نہیں، بلکہ کئی دیگر ٹیمیں بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنے جا رہی ہیں۔
Hardik Pandya & Rishabh Pant in IPL 2025. Credits- BCCI
ہاردک پانڈیا نہیں بلکہ یہ تین کپتان نشانے پر ہیں
ممبئی انڈینز کے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد کپتان ہاردک پانڈیا کو شدید عوامی ردعمل اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ آٹھ میچوں میں صرف دو فتوحات کے ساتھ ممبئی کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔ اگرچہ یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ فرنچائز پانڈیا سے آگے بڑھنے کا سوچ رہی ہے، لیکن پی ٹی آئی (PTI) کی ایک حالیہ رپورٹ نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، آئی پی ایل 2026 کے اختتام پر تین کپتان ایسے ہیں جنہیں ان کے عہدوں سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس فہرست میں ہاردک پانڈیا کا نام شامل نہیں ہے، بلکہ اکشر پٹیل، اجنکیا رہانے اور رشبھ پنت کے نام لیے جا رہے ہیں۔ ان تینوں کپتانوں پر الزام ہے کہ وہ مسلسل دو سیزن سے اپنی ٹیموں کو پلے آف تک پہنچانے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے فرنچائز مالکان اب تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔
اکشر پٹیل اور دہلی کیپٹلز کی اندرونی کشمکش
دہلی کیپٹلز (DC) کے کپتان اکشر پٹیل کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ کوچنگ اسٹاف کی ضرورت سے زیادہ مداخلت ہے۔ جی ایم آر (GMR) گروپ کی سربراہی میں ہیمنگ بدانی اور وینوگوپال راؤ جیسے نام قیادت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس نے سوربھ گانگولی جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے سائے کو بھی دھندلا دیا ہے۔
اکشر پٹیل نے خود بھی ٹیم کے باضابطہ طور پر باہر ہونے سے پہلے ہی اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق: “اکشر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور وہ زیادہ تر فیصلوں کے لیے ہیمنگ بدانی اور وینوگوپال راؤ پر منحصر رہے۔ اگر وہ اگلے سال اپنی کپتانی برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا، کیونکہ اب پورے کوچنگ اسٹاف کی تبدیلی کے امکانات بھی روشن ہیں۔”
اجنکیا رہانے اور کے کے آر کا مستقبل
اجنکیا رہانے اس فہرست میں شامل سب سے تجربہ کار کھلاڑی ہیں جنہوں نے بلے باز اور کپتان دونوں حیثیتوں میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کی۔ ان کی قیادت میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) نے 11 میچوں میں سے چار میں فتح حاصل کی، لیکن یہ فتوحات مسلسل ناکامیوں کے بعد آئیں۔ آر سی بی کے خلاف شکست کے بعد تین بار کی چیمپئن ٹیم اب اخراج کے دہانے پر کھڑی ہے۔
رہانے نے بطور بلے باز 237 رنز بنائے ہیں جس میں ان کا بہترین سکور 67 رہا۔ تاہم، اگر کے کے آر پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو یہ رہانے کی قیادت میں مسلسل دوسری ناکامی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے اس کرکٹر کو، جنہیں ہنگامی طور پر کپتانی سونپی گئی تھی، اب قیادت سے ہٹائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ کے کے آر کے اگلے میچز گجرات ٹائٹنز، ممبئی انڈینز اور دہلی کیپٹلز کے خلاف ہیں جو ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
رشبھ پنت: توقعات اور حقیقت کا فرق
رشبھ پنت کا نام بھی ان کپتانوں میں شامل ہے جن کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پنت بھی ان لیڈروں میں سے ایک ہیں جو ٹیم کو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ فرنچائز کرکٹ میں جہاں ہر سیزن کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، وہاں مسلسل دو سال تک پلے آف تک نہ پہنچنا کسی بھی کپتان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، آئی پی ایل 2026 کا اختتام کئی فرنچائزز کے لیے ایک نئی شروعات کا باعث بنے گا۔ جہاں ہاردک پانڈیا کی ممبئی میں پوزیشن ابھی بھی بحث کا موضوع ہے، وہیں دہلی اور کولکتہ کی ٹیموں میں قیادت کی تبدیلی اب ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے میگا آکشن سے پہلے یہ ٹیمیں کن نئے چہروں کو اپنی قیادت کی ذمہ داریاں سونپتی ہیں۔
