[CRK] ورات کوہلی کی شاندار بیٹنگ: ڈیل اسٹین اور ایان بшоپ نے کیا کہا؟
[CRK]
ورات کوہلی کی بیٹنگ کا جادو: جب ڈیل اسٹین نے انہیں ‘جینیس’ قرار دیا
کرکٹ کی دنیا میں کچھ کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جو صرف کھیل نہیں کھیلتے بلکہ کھیل کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ ورات کوہلی ایک بار پھر اسی فہرست میں سرِ فہرست نظر آئے جب انہوں نے آئی پی ایل 2026 کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں گجرات ٹائٹنز (GT) کے خلاف رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کے لیے ایک یادگار اننگز کھیلی۔ بنگلور کے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں کوہلی نے اپنی کلاس اور جارحیت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دنیا کے بہترین गेंदबाजों اور تجزیہ کار دنگ رہ گئے۔
ورات کوہلی نے اننگز کا آغاز کرتے ہوئے محض 44 گیندوں پر 81 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 184.09 رہا۔ اس شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے نہ صرف اپنی ٹیم کو فتح کی راہ دکھائی بلکہ ٹورنامنٹ میں ایک بار پھر اورنج کیپ اپنے نام کر لی۔ کوہلی اب سات اننگز میں مجموعی طور پر 328 رنز بنا چکے ہیں، جو ان کی موجودہ فارم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈیل اسٹین کی نظر میں کوہلی کی مہارت
سابق جنوبی افریقی فاسٹ بولر اور کوہلی کے سابق ٹیم میٹ ڈیل اسٹین، جو اپنی تیز رفتاری اور مہارت کے لیے جانے جاتے ہیں، کوہلی کی اس صلاحیت سے بے حد متاثر نظر آئے۔ ESPNcricinfo کے شو ‘Time:Out’ میں گفتگو کرتے ہوئے اسٹین نے کہا، “وہ ایک جینیس (عبقری) کھلاڑی ہیں۔”
اسٹین نے کوہلی کی گیم ریڈنگ (کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کوہلی ہمیشہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، “وہ اس وقت صورتحال کو دیکھتے ہیں جو ان کے سامنے ہوتی ہے۔ وہ شاید ان بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہیں میں جانتا ہوں جو پہلی گیند سے ہی یہ حساب لگا لیتے ہیں کہ کھیل کو کس رخ پر لے جانا ہے اور فائنل رنز تک پہنچنے کا راستہ کیسے تلاش کرنا ہے۔ میری نظر میں وہ دنیا کے بہترین ‘چیزر’ (رنز کا تعاقب کرنے والے کھلاڑی) ہیں۔”
میچ کا احوال اور اہم شراکت
اگرچہ ایم چناسوامی اسٹیڈیم اپنے ہائی اسکورنگ میچز کے لیے مشہور ہے، لیکن 206 رنز کا ہدف معمولی نہیں تھا۔ تاہم، کوہلی اور دیو دت پڈیکال نے اس ہدف کو بہت آسان بنا دیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان دوسری وکٹ کے لیے 59 گیندوں پر 115 رنز کی شاندار شراکت قائم ہوئی۔ جہاں پڈیکال نے 27 گیندوں پر 55 رنز بنائے، وہیں کوہلی نے 32 گیندوں پر 59 رنز کا اہم حصہ فراہم کیا (ان کی مجموعی اننگز 81 رنز کی تھی)۔
میچ کے بعد پڈیکال نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “جب ہم گجرات ٹائٹنز کی اننگز کے بعد ڈریسنگ روم میں گئے تو ہمیں محسوس ہوا کہ وہ شاید 15 سے 20 رنز کم بنائے ہیں۔ اس احساس نے ہمیں بیٹنگ کے دوران بہت اعتماد دیا۔”
محنت اور جنون: کوہلی کی کامیابی کا راز
دیو دت پڈیکال نے کوہلی کے ساتھ بیٹنگ کرنے کے تجربے پر بات کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کوہلی نے کرکٹ میں وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جو ایک کھلاڑی حاصل کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی وہ ہر پریکٹس سیشن اور ہر میچ میں 100 فیصد کوشش کرتے ہیں۔ پڈیکال کے مطابق، “اس طرح کی لگن اور جنون بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، اور جب ٹیم کا ایک بڑا کھلاڑی اتنا پرجوش ہوتا ہے تو اس کا اثر پوری ٹیم پر پڑتا ہے۔”
ایک کھلاڑی کا ارتقاء: اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ورات کوہلی کا ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ارتقاء حیران کن ہے۔ 2010 میں انہوں نے پہلی بار سیزن میں 140 سے زیادہ کا اسٹرائیک ریٹ حاصل کیا تھا، لیکن 2024 تک وہ صرف تین سیزنز میں اس حد کو عبور کر پائے تھے۔ تاہم، حالیہ سالوں میں ایک بڑی تبدیلی نظر آئی ہے:
- 2024 سیزن: 154.70 اسٹرائیک ریٹ
- 2025 سیزن: 144.71 اسٹرائیک ریٹ
- موجودہ سیزن: 163.18 اسٹرائیک ریٹ
رنز بنانے کے معاملے میں کوہلی ہمیشہ سے مستحکم رہے ہیں۔ 2016 میں بنائے گئے 973 رنز کا ریکارڈ آج بھی قائم ہے۔ 2017 اور 2022 کے علاوہ، انہوں نے ہر سیزن میں 400 سے زیادہ رنز بنائے ہیں، اور گزشتہ تین سیزنز میں انہوں نے بالترتیب 639، 741 اور 657 رنز اسکور کیے۔
سابق کرکٹر ایان بшоپ نے کوہلی کی اس تبدیلی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “مجھے کوہلی کی بیٹنگ پسند ہے، لیکن 37 سال کی عمر میں ایک ایسے کھیل میں خود کو ڈھالنا جس کی رفتار (Tempo) اتنی تیز ہو چکی ہے، واقعی غیر معمولی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ آج کے دور کے ہائی گیئر کرکٹ میں بھی اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔”
فتح کے بعد کوہلی کا ردعمل
میچ کے بعد ‘پلیئر آف دی میچ’ ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے کوہلی نے بتایا کہ ان کی حکمت عملی واضح تھی۔ انہوں نے کہا، “ایک مرحلے پر ہم 230-235 رنز کے تعاقب کی توقع کر رہے تھے۔ پچ بہترین تھی اور یہ اس سیزن کی بہترین بیٹنگ کنڈیشنز تھیں۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ اگر ہم کھیل میں برقرار رہے تو بولرز کے لیے مشکل ہوتی جائے گی۔ دیو (پڈیکال) بہت اچھی فارم میں تھے اور ہمارا مقصد بولرز پر دباؤ برقرار رکھنا تھا۔”
آر سی بی، جس نے گزشتہ سال پہلی بار ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کی تھی، اب اپنی مضبوطی کا احساس دوسری ٹیموں کو دلا رہی ہے۔ کوہلی نے میچ کے اختتام پر ایک واضح پیغام دیا، “یہ کرکٹ کھیلنے کے لیے ایک خاص جگہ ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم سیزن کے آخر میں یہاں دوبارہ واپس آئیں گے۔”
